بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

"میں اللہ سے ناراض ہوں "کہنے کا حکم


سوال

ایک آدمی نےاپنی بیوی  کوتین طلاقیں دی۔عدت پوری ہونےکےبعدزوج اول نےمطلقہ کانکاح بغرض حلالہ   دوسرےشخص سےکرایا ،جب زوج ثانی منکوحہ کےپاس آیاتوباتوں باتوں میں زوج ثانی نےمنکوحہ سےپوچھاکہ آپ کس سےخفہ(ناراض)ہے،اس نےکہامیں اللہ سےخفہ(ناراض)ہوں ۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ بیوی کایہ کہناکہ "میں اللہ سےناراض ہوں"کلمات کفریہ ہےیانہیں؟ واضح رہے،زوجہ کہتی ہےکہ مذکورہ الفاظ سےمیرامقصد صرف طبعی شکایت تھی۔نیززوج ثانی نےمنکوحہ سےجماع  کیاہے تو اب وہ زوج اول کےلیےحلال ہوگی یادوبارہ کسی شخص سےحلالہ کرانالازم ہے؟

جواب

                واضح رہےکہ مسئلہ تکفیر(کسی مسلمان کوکافرقراردینا)ایسامسئلہ ہے،جس کےبیان کرنےمیں حددرجہ احتیاط ضروری ہے، چنانچہ فقہاےکرام  نےلکھاہےکہ اگرکسی مسئلہ میں کئی وجوہ ایسی ہوں ،جن سےکفرثابت ہوتاہو،اورایک وجہ ایسی ہوجوتکفیرسےمانع بنتی ہو تومفتی(فتوی دینےوالے)پرلازم ہےکہ مسلمان پرحسن ظن رکھتےہوئےفتوی دینےمیں عدم تکفیروالی وجہ کوترجیح دےدے۔

                صورت مسئولہ کےمطابق مذکورہ کلام(میں اللہ سےناراض ہوں)خاتون کولاحق طبعی پریشانی وغم سےتعبیرپرمحمول کرناممکن ہے،یعنی ممکن  ہےکہ خاتون کااس کلام سے باری تعالی کی تقدیرپراعتراض   کرنامقصودنہ ہو،بلکہ محض اپنی طبعی پریشانی وغم کومذکورہ جملےسے تعبیرکیاہو،اس لیےمذکورہ کلام کہنےسےیہ خاتون دائرۂ اسلام سےخارج متصورنہ ہوگی ،بلکہ بدستوروہ مسلمان شمارہوگی،تاہم مذکورہ جملہ میں چونکہ کفرکاشائبہ موجودہے،اس لیےآئندہ اس جیسےکلام کہنےسےاحترازضروری ہے ،نیزخاتون پرلازم ہےکہ مذکورہ کلام سےرجوع اور استغفارکرے۔

                جہاں تک مذکورہ خاتون کازوج اول کےلیےحلال ہونےکامسئلہ ہےتوزوج ثانی نےاگرازدواجی تعلقات قائم کرنےکےبعداس کو طلاق دیاہوتوعدت پوری ہونےکےبعدیہ خاتون زوج اول کےلیےحلال ہوگی، اوراس کااس سےنکاح کرناشرعادرست ہوگا۔

 

وفى الخلاصة وغيرها إذا كان فى المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم.(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الجهاد، باب المرتدين، مطلب: مايشك أنه ردة لايحكم بها، ج: 6، ص:358، دارالكتب العلمية)

وماكان في كونه كفرا اختلافا، فإن قا ئله يؤمربتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط، وما كان خطأ من الألفاظ ولاتوجب الكفر، فقائله مؤمن على حاله ولايؤمر بتجديد النكاح، ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك والله أعلم.(الفتاوى التاتارخانية، كتاب أحكام المرتدين، الفصل الأول: إجراء كلمة الكفر وحديث النفس، ج:7، ص:284، الرشيدية)

وإن كان الطلاق ثلاثا فى الحرة وثنتين فى الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، باب السادس فى الرجعة، ج:1، ص:473، دارالفكر)


فتویٰ نمبر : 4775/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں