بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 27/10/2026 |
دارالافتاء
اپنی تیار کردہ مصنوعات پر کسی مشہور کمپنی کا لیبل لگانا
سوال
بعض لوگ اپنی تیارکردہ مصنوعات پر کسی مشہور اور معیاری کمپنی کا لیبل لگاتے ہیں ، جس کے نتیجے میں اپنی مصنوعات کو اس مشہور کمپنی کے پراڈکٹ کے نام سے فروخت کرتے ہیں ،تو کیا یہ اس مشہور کمپنی کی حق تلفی نہیں اور کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟
جواب
کسی مشہور کمپنی کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنی مصنوعات پر اس کا لیبل لگانا اس بات کو ظاہر کرناہے کہ یہ پراڈکٹ اسی کمپنی کی بنائی ہوئی ہے اور اس سےمقصد یہ ہوتا ہے کہ خریدار مشہور کمپنی کا لیبل دیکھ کر یہ تصور کرے کہ یہ اس مشہور کمپنی کی مصنوعات ہیں اور ان پراڈکٹس کا وہی معیار اور کوالٹی ہے جس مشہور کمپنی کا اس پر لیبل لگا ہوا ہےاور وہ خریداری کے لیے مائل ہوجائے، جبکہ حقیقت میں یہ مصنوعات اس کمپنی کی بنائی ہوئی نہ ہوں تو یہ دراصل گاہک کو دھوکہ دینا ہےجوشرعاً جائز نہیں،نیز اس میں لیبل والی مشہور کمپنی کے حق کا استحصال بھی ہے ۔اسی طرح دوسری کمپنیوں کےرجسٹر ڈ نام اور ٹریڈ مارک استعمال کرنا اور اس کو اپنی مصنوعات پر لگانا قانوناً بھی جرم ہے ، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني»۔(الصحيح لمسلم ، كتاب الإيمان ، باب قول النبي ﷺ من غش فليس منا ، ج: 1 ص: 70)
"وهذاالحكم،أي وجوب طاعة الأميرمختص بمالم يخالف أمره الشّرع ،يدلّ عليہ سیاق الآیۃ؛فإنّ اللہ تعالی أمر الناس بطاعۃ أولی الأمر بعد ماأمرھم بالعدل في الحکم،تنبیھاعلی أنّ طاعتھم واجبۃ ما داموا علی العدل"(أحكام القرآن،التھانوي ،ج: 2 ص:229 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 331
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 248
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 907
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 458
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 578
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 499
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 34
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 479
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 83
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 64
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 328
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1203
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 391
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں