بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلموں کی کمپنیوں میں ملازمت کرنا


سوال

آج کل مختلف قسم کی کمپنیاں وجود میں آئی ہیں ان کمپنیوں میں سے اکثر کمپنیاں یہود کو فنڈنگ کرتی ہیں،تو کیا ایسے پلیٹ فارم پر کام کرنا جائز ہے؟  جو کفار کے ساتھ مدد اور تعاون کرےجس سے کفار کو ترقی ملتی ہے اور وہ دن بدن امتِ مسلمہ کے زوال کے منصوبے بناتے ہیں ۔

جواب

             واضح رہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ دنیاوی معاملات اور تجارت کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ کسی ممنوع یا حرام چیز کی تجارت نہ ہو۔ اسی طرح اگر ان کے ساتھ معاملات کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصان پہنچنا یقینی ہو، تو پھر اس سے احتراز ضروری ہے ، چنانچہ فقہائے کرامؒ نے کفار کو حالتِ جنگ میں اسلحہ فروخت کرنے کو ممنوع قراردیا ہے ۔

             لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق غیر مسلموں کی کمپنیوں کے ساتھ معاملات کرنا ان کی مصنوعات خريدنااوران کمپنیوں کے واسطے سے پروڈکٹ کسی کو فروخت کرنا شرعاً جائز ہے ، تاہم اگر کسی کمپنی کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ اس کی آمدنی کلی یا جزوی طور پر اسلام دشمن منصوبوں میں استعمال ہوتی ہے تو پھر مسلمانوں پران سے بائیکاٹ کرنا اور ان کمپنیوں کی مصنوعات سے اجتناب کرنا شرعاً ضروری ہے۔

 

(قوله: ولا ينبغي أن يباع السلاح من أهل الحرب) إذا حضروا مستأمنين (ولا يجهز إليهم) مع التجار إلى دار الحرب «لأنه - عليه الصلاة والسلام - نهى عن بيع السلاح من أهل الحرب وحمله إليهم»۔(فتح القدير ، كتاب السير ، باب الموادعة ومن يجوز أمانه ، ج:5 ص: 209)

لابأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه۔(الفتاوى الهندية ، كتاب الكراهية ، الباب الرابع عشر في أهل الذمة ج: 5 ص: 384)

ولا بأس بحمل الثياب والمتاع والطعام، ونحو ذلك إليهم؛ لانعدام معنى الإمداد، والإعانة، وعلى ذلك جرت العادة من تجار الأعصار، أنهم يدخلون دار الحرب للتجارة من غير ظهور الرد والإنكار عليهم، إلا أن الترك أفضل؛ لأنهم يستخفون بالمسلمين، ويدعونهم إلى ما هم عليه، فكان الكف والإمساك عن الدخول من باب صيانة النفس عن الهوان، والدين عن الزوال، فكان أولى.(بدائع الصنائع ، كتاب السير ، فصل في بيان مايكره حمله إلى دارالحرب ، ج: 9 ص: 402)

المسلم إذا آجر نفسه من الكافر ليخدمه جاز ، ويكره، قال الفضلي: لايجوز في خدمة ما فيه إذلال، بخلاف الزراعة والسقي۔(خلاصة الفتاوى ، کتاب الإجارات ، الفصل العاشر ، ج: 3 ص: 149)


فتویٰ نمبر : 2885/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں