بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ایک شریک کا اپنا حصہ دوسرے پر فروخت کرنا


سوال

دو بھائیوں نے کسی شخص سے شہد خریدا اور ایک دوکاندار کے پاس امانۃً رکھ کر یہ طے کیا کہ جب اس کی قیمت بڑھ جائیگی تو اس کو فروخت کردینگے،پھر ایک بھائی نے دوسرے سے کہا کہ شہد کی قیمت اب بڑھ گئی ہے اسے فروخت کردو ، اب بجائے اس کے کہ اس کو کسی دوسرے شخص پر فروخت کردے ،ایک بھائی اپنا حصہ دوسرےبهائی  پر فروخت کرنا چاہتا ہے،تو کیایہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

             شرعی نقطہ نظر سے جب دو آدمیوں کے درمیان کسی چیز میں شرکت ہو ، تو ان میں سے ہر ایک شریک اپنا حصہ دوسرے  شریک پر فروخت کرسکتا ہے۔

             لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق جب دو بھائیوں نے مشترکہ طور پر شہد خریدا اور پھران میں سے ایک بھائی اپنا حصہ دوسرے پر فروخت کرنا چاہتا ہے ،تو شرعاً یہ جائز ہے۔

 

إن أحد الشريكين في دار ونحوها يشتري من شريكه جميع الدار بثمن معلوم فإنه يصح على الأصح بحصة شريكه من الثمن۔(ردالمحتار ، كتاب البيوع ، باب البيع الفاسد ، ج:7 ص: 281)

والفرق أن الشركة إذا كانت بينهما من الابتداء، بأن اشتريا حنطة أو ورثاها.كانت كل حبة مشتركة بينهما فبيع كل منهما نصيبه شائعا جائز من الشريك والأجنبي، بخلاف ما إذا كانت بالخلط أو الاختلاط كان كل حبة مملوكة بجميع أجزائها ليس للآخر فيها شركة، فإذا باع نصيبه من غير الشريك لا يقدر على تسليمه إلا مخلوطا بنصيب الشريك فيتوقف على إذنه، بخلاف بيعه من الشريك للقدرة على التسليم والتسلم.(ردالمحتار ، كتاب الشركة ، ج: 6 ص: 468)


فتویٰ نمبر : 2883/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں