بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بڑے تالاب میں نجاست پڑنے کا حکم


سوال

ہمارے گاؤں میں پچاس(50)فٹ لمبا،بارہ(12)فٹ چوڑا،دس(10)فٹ گہراایک تالاب ہے،جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے۔تالاب کے قرب وجوار میں لوگ پیشاب کرتے ہیں۔بسا اوقات سورج کی تپش کی وجہ سے پیشاب آلودہ زمین خشک ہوتی ہے،جبکہ کبھی کبھار خشک ہوئے  بغیر بارش ہوتی ہے۔1۔شرعا اس کی پاکی اور ناپاکی کا کیا حکم ہے؟2۔اگر اس کا پانی ناپاک ہے تو اس کے ساتھ  پڑھی ہوئی نمازوں کی قضا کا کیا حکم ہے ؟واضح رہے کہ علاقائی پسماندگی کی وجہ سے ایسے  پانی  کے استعمال کی ضرورت بھی  پڑتی ہے۔

جواب

                واضح رہےکہ جو تالاب دہ دردہ ہو،یعنی اس کا مجموعی رقبہ سو (100)مربع گز یا دو سو پچیس(225)مربع فٹ یا اس سے زائد ہو اور گہرائی اتنی ہو کہ پانی لینے سے وہ جگہ خالی نہ ہو تو وہ ماء جاری کے حکم میں  ہوتا ہے ،اس لیے نجاست پڑنے سے اس وقت تک  ناپاک نہ ہوگا ،جب تک نجاست کی وجہ سے اس  پانی کے اوصاف (رنگ،بواور مزہ )میں سےکسی ایک وصف تبدیلی نہ آجائے۔

                صورت مسئولہ میں مذکور تالاب کی  جولمبائی اور چوڑائی بیان ہوئی ہے اس کامجموعی رقبہ چھ سو(600)فٹ بنتا ہےاگر یہ تالاب پانی سے بھرا ہو یا اس میں کم از کم دو سو پچیس(225) مربع فٹ جگہ میں پانی موجود ہو تویہ ماء جاری کے حکم میں ہوگا،چنانچہ تالاب کے قرب وجوار سے نجاست جیسے لوگوں کا پیشاب،پاخانہ یا کوئی اور گندگی  وغیرہ اگر  بارش کے پانی کی وجہ سے تالاب میں آئے تو اس کی وجہ سے تالاب  کا پانی ناپاک نہ ہوگا اور اس کا استعمال کرنا جائز ہوگا ،البتہ اگر نجاست پڑنے سے اس پانی کے اوصاف (رنگ،بواور مزہ)میں سے کسی ایک وصف میں  تبدیلی آجائے تو پھر اس کا  پانی ناپاک ہوگا اور اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔

۲۔لوگوں نے اس تالاب سے  اگر وضو اس حال میں کیا ہو کہ نجاست کی وجہ سے اس کے پانی کے اوصاف میں تبدیلی نہ آئی ہو تو وضو درست ہونے کی وجہ سے ان پر نمازوں کی قضا نہیں اور اگر یہ یقینی  طور پر معلوم ہو کہ نجاست کی وجہ  سے اس کے اوصاف میں تبدیلی آنے کے بعد اس سے طہارت  حاصل کی ہے تو ناپاک  پانی سے  طہارت درست نہ ہونے کی وجہ سے ان پر ان نمازوں کی قضا لازم ہو گی  جتنی نمازیں اس کے ساتھ ادا کی ہیں،تاہم محض شک وشبہ کی بنا پر نمازوں کی قضا لازم نہیں۔

 

(قوله: وإلا فهو كالجاري) أي، وإن يكن عشرا في عشر فهو كالجاري فلا يتنجس إلا إذا تغير أحد أوصافه۔(البحر الرائق،كتاب الطهارة،ج1،ص150)

ولذا قال في الخلاصة: الماء النجس إذا دخل الحوض الكبير لا ينجس الحوض وإن كان النجس غالبا على ماء الحوض؛ لأنه كلما اتصل الماء بالحوض صار ماء الحوض غالبا عليه.(ردالمحتارعلی الدر المختار،كتاب الطهارة،باب المياه،ج1،ص339)


فتویٰ نمبر : 8907/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں