بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

کنویں میں گوہ گر کر مرنے سے پانی کا حکم


سوال

ہمارے گھر میں ایک کنواں ہے، جس  پر  بجلی کا پمپ لگا ہے،اس کنویں میں گوہ  جس کو عام زبان میں سمسر ہ کہتے  ہیں، گر کر مر گیا ہے اب پانی کا حکم کیا ہے؟

جواب

           فقہاے کرام  کی تصریحات کے مطابق  کنویں میں نجاست گر جائے تواولانجاست نکالاجائےاور  پھرسارا  پانی نکالا جائے  اور اگر کنواں چشمہ دار ہو  تو کنویں میں موجود پانی  کے اندازے کے مطابق  اس کا سارا پانی نکالا جائے ، لیکن یہ اندازہ   اگر مشکل  ہو ، تو دوسو سے تین سو تک  متوسط ڈول نکالنے  کے بعد کنواں  پاک شمار ہو گا۔

           صورت مسئولہ  جب کنویں میں  گوہ گر کر مر گیا ہے، تو اس  سے پانی نجس ہو گیا ہے۔ لہذا گوہ  کو نکال  کر  اس کنویں کو خالی کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر کنواں چشمہ دار ہو  تو  دوسو  سے تین سو تک  متوسط ڈول نکالے جائیں ،تو اس سے  پانی اور کنواں  دونوں پاک شمار ہوں گے۔

 

(وإن تعذر) نزح كلها لكونها معينا (فبقدر ما فيها) وقت ابتداء النزح.قاله الحلبي (يؤخذ ذلك بقول رجلين عدلين لهما بصارة بالماء) به يفتى، وقيل يفتى بمائة إلى ثلاثمائة وهذا أيسر، وذاك أحوط. قوله ( وإن تعذر ) كذا عبر في الهداية وغيرها وقال في شرح المنية أي بحيث لا يمكن إلا بحرج عظيم ۔ فالمراد به التعسر وبه عبر في الدرر  قوله ( وقيل الخ ) جزم به في الكنز والملتقى وهو مروي عن محمد وعليه الفتوى خلاصة وتاترخانية عن النصاب وهو المختار معراج عن العتابية(الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الطهارة،باب المياه، فصل في البئر،ج:1ص:370)

وكذاالوزغة إذا كانت كبيرة أي بحيث يكون لها دم فإنها تفسد الماء۔(الحلبي الكبيري،فصل في البئر،ص145)


فتویٰ نمبر : 8912/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں