بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

جانور سے کام لیتے وقت اس کو مارنا


سوال

ہم لوگ جب  گدھا گاڑی میں کھیت جاتے ہیں تو بعض اوقات ہماری جلدی ہوتی ہے اور بعض اوقات گدھا سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آہستہ آہستہ جاتا ہےاور بعض اوقات وہ تھک جاتا ہے اور مزید کام نہیں کرنا چاہتا تو ہم اس کومارتے ہیں ۔ کیا  یہ ظلم شمار ہوگا یا نہیں؟ کیا ان جانوروں کو ہم دوڑانے کے لیے  لکڑی سےمارسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

            شریعت مطہرہ  میں جانوروں کے کچھ  حقوق مقرر  ہیں جن کی رعایت رکھناشرعا لازم اور ضروری ہے۔ جانوروں کے حقوق میں  یہ بھی ہے کہ  ان پر طاقت سے زیادہ سے  بوجھ نہ ڈالا جائے، ان کے چارے وغیرہ کا بروقت انتظام کیا جائے اور چہرے پر نہ مارا   جائے ۔ تا ہم جانور سے کام  لیتے وقت یا اس پر سفر کرتے وقت کام پر ابھارنے کے لیے یا سفر میں تیز کرنے کے واسطے چہرے کے علاوہ باقی جسم پر  بقدرِ ضرورت مارنے کی شرعا گنجائش ہے۔

             لہذا صورتِ مسئولہ میں جب گدھا سستی کا مظاہرہ کرتا ہو تو اس کو  تیز کرنے کے واسطے چہرے کے علاوہ  باقی جسم پر معروف طریقے سے  مارنا جائز ہے یہ ظلم شمار نہ ہوگا،  البتہ جب وہ تھک جانے کی وجہ  سےآہستہ چلتا ہوتو پھر اس کو  تیز کرنے کے واسطے  مارنے کی بجائےآرام کا موقع دینا  چاہیے۔

 

أبو المتوكل الناجي، قال: أتيت جابر بن عبد الله الأنصاري، فقلت له: حدثني بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: سافرت معه في بعض أسفاره - قال أبو عقيل: لا أدري غزوة أو عمرة - فلما أن أقبلنا قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من أحب أن يتعجل إلى أهله فليعجل»، قال جابر: فأقبلنا وأنا على جمل لي أرمك ليس فيه شية، والناس خلفي، فبينا أنا كذلك إذ قام علي، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم: «يا جابر استمسك»، فضربه بسوطه ضربة، فوثب البعير مكانه۔(الصحيح للبخاري، كتاب الجهاد، باب من ضرب دابة غيره في الغزو، ج:2، ص:775)

وفيه دليل على جواز إيلام الحيوان ، والحمل عليها بعض ما يشق بها ؛ لأنه جاء فى بعض الحديث أنه كان أعيا ، فإذا ضرب المعين فقد كلف۔(شرح صحيح البخاري لابن بطال، كتاب الجهاد، باب من ضرب دابة غيره في الغزو، ج:5، ص:64)

وللمستأجر ضرب الدابة بقدر ما جرت به العادة، ويكبحها باللجام للاستصلاح، ويحثها على السير، ليلحق بالقافلة۔ وقد صح عن النبي صلى الله عليه وسلم نخس بعير جابر، وضربه، وكان أبو بكر يخرش بعيره بمحجنه، وللرائض الدابة للتأديب، وترتيب المشي، والعدو، والسير۔(إعلاء السنن، باب أجرة السمسرة،ج:16، ص:248)

لا يحملها فوق طاقتها ولا يضرب وجهها ولا رأسها إجماعا، ولا تضرب أصلا عند أبي حنيفة ح وإن كانت ملكه قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «تضرب الدواب على النفار ولا تضرب على العثار» لأن العثار من سوء إمساك الراكب اللجام والنفار من سوء خلق الدابة فتؤدب على ذلك كذا في فصول العلامي۔(ردالمحتار، كتاب الحظروالإباحة، باب الاستبراء وغيره، فصل في البيع، ج:9،ص:576)


فتویٰ نمبر : 4783/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں