بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

اجیر مشترک کا سو روپے کی چیز بنوا کر لوگوں سے دوسو روپے لینا


سوال

ایک شخص کوئی چیز، مثلاً: CV ، سو روپے کی بناتا ہے، دوسرا شخص لوگوں سے کہتا ہے کہ میں دوسو روپے کی بنوادوں گا۔دوسرا شخص لوگوں سے دوسو روپے لیتا ہے اور پہلے شخص(CV) بنانے والے کو سو روپے دیتاہے،اور اس نے پہلے شخص کو بتایا بھی ہے  کہ میں لوگوں سے دوسو روپے لیتا ہوں اوا آپ کو سو روپے دیتا ہوں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ (1)اس  شخص کےلیے سو روپے لینا کیساہے؟(2)کیا یہ درمیان والا بندہ لوگوں اور (CV) بنانے والے کے درمیان واسطہ(دلال) ہے؟

جواب

            جو شخص کسی خاص فرد یا ادارے کا ملازم نہ ہو بلکہ بیک وقت مختلف لوگوں کی خدمت کر تا ہو، مثلاً: درزی وغیرہ ، تو وہ اجیر مشترک کہلاتا ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ اگر عقد کے وقت عاقدین نے یہ شرط نہ لگائی ہو کہ اجیربذاتِ خود یہ کام سرانجام دےگابلکہ مطلقا عقد ہوا ہو تو چاہے وہ خود وہ  کام سرانجام دے یا کسی اور سے کروائے، دونوں صورتوں میں وہ اجرت کا مستحق ہو تاہے۔

  1. لہٰذا صورت مسئولہ میں جو شخص لوگوں سے CV وغیرہ بنانے کا آرڈر  دوسو روپے میں وصول کرتاہے تو یہ اجیر مشترک ہے، پھر اگر یہ دوسرے شخص سے سو روپے میں بنواتا ہو تو اگر آرڈر دینے والے نے عقد کے وقت یہ شرط نہ لگائی ہو کہ تم خود ہی بناؤگے تو خواہ وہ خود بنائےیا کسی اور سے بنوائے ، چاہے اسی اجرت پر بنوائے جس پر اس کا معاملہ گاہک کے ساتھ ہوا ہے یا اس سے کم یا زیادہ اجرت پر بنوائے،  بہر صورت اس کا یہ معاملہ شرعاً درست ہے اور اس کی اجرت بھی جائز ہے۔
  2. سائل کی بیان کردہ صورت کے مطابق دوسرا شخص لوگوں اور CV بنانے والے کے درمیان دلال (واسطہ)  نہیں ہے بلکہ بذات خود اجیر مشترک کے حکم میں ہے۔

 

 وبعضهم قالوا الأجير المشترك من يتقبل العمل من غير واحد والأجير الخاص من يتقبل العمل من واحد. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الثامن والعشرون، ج:4، ص:455)


فتویٰ نمبر : 2881/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں