بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن اذان ثانی کا جواب دینا


سوال

جمعے کے دن پہلی اذان کا جواب دینا واجب ہے یا دوسری اذان کا یا دونوں کا؟

جواب

              اذان اللہ تعالی کا عظیم ذکر  اور شعائراسلام میں سے ہے، اس لیے اس کی تعظیم اور احترام کی خاطر شریعت نے اذان کے وقت خاموش رہنے کا حکم دے کر زبان سےاس کا جواب دینا بھی مستحب قرار دیا، جب کہ عملاً جواب کو واجب قرار دیا۔ لہٰذا جمعہ سمیت ہر وقت کی اذان کا زبان سے جواب دینا مستحب اور عملاً جواب دینا واجب ہے۔ تاہم جمعہ کے دن دوسری اذان چونکہ امام کے ممبر پر چڑھنے کے بعد دی جاتی ہے جس وقت ہر قسم کی نماز، کلام اور ذکر و اذکار وغیرہ ممنوع ہے، اس لیے اس وقت زبان سے جواب دینے کی بجائے محض دل میں اذان کے کلمات دہرائے جائیں۔

            صورت مسئولہ کے مطابق جمعہ کے دن زبان سے پہلی اذان  کا جواب دینا مستحب اور عملاً جواب دینا واجب ہے،جب کہ دوسری اذان کا زبان سے تلفظ کیے بغیر دل میں جواب دینے کی شرعاًاجازت ہے۔

 

فصل وأما بيان ما يجب على السامعين عند الأذان  فالواجب عليهم الإجابة لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال أربع من الجفاء من بال قائما ومن مسح جبهته قبل الفراغ من الصلاة ومن سمع الأذان ولم يجب ومن سمع ذكري ولم يصل علي.   (بدائع الصنائع، كتاب الصلوة، فصل وأما بيان ما يجب على السامعين عند الأذان، ج:1، ص:661)

قال: وينبغي أن لا يجيب بلسانه اتفاقا في الأذان بين يدي الخطيب، وأن يجيب بقدمه اتفاقا في الأذان الأول يوم الجمعة لوجوب السعي بالنص. (الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الصلوة، باب الأذان، ج:2، ص:70)


فتویٰ نمبر : 8900/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں