بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

چھوٹے بچے کی قی کا حکم


سوال

ميرا ايك چھوٹا بیٹا ہے وہ زیادہ وقت میرے ساتھ گزارتا ہےوہ اکثر اوقات میرے ساتھ ہوتا ہے وہ  کچھ کھاتا نہیں صرف دودھ پیتا ہے اور بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ الٹیاں کرتے ہیں میں پھر ان کپڑوں میں نماز بھی پڑھتا ہوں شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

 

جواب

           بچےکی قے اگر منہ بھر کر ہو تو ناپاک ہے، اور نجاستِ  مغلظہ کے قبیل سے ہے، پس اگر کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑے بھی ناپاک ہوجاتے ہیں بشرطیکہ قدرِ درہم سے زیادہ مقدار میں ہوں ۔ اگر اس سے کم مقدارمیں ہو اور نماز ادا کرلی تو نمازادا ہو جائے گی، لیکن اگرنماز سے پہلے معلوم ہو تو پاک کرلینا چاہیے۔تاہم اگر دودھ وغیرہ پینے یا کچھ کھانے کے بعد معدہ تک پہنچنے سے پہلے وہ منہ سے بہہ جائے تو وہ قے نہ ہونے کی وجہ سے  ناپاک نہیں۔

 

(و) ينقضه ( قيء ملأ فاه ) بأن يضبط بتكلف ( من مرة ) بالكسر أي صفراء ( أو علق ) أي سوداء وأما العلق النازل من الرأس فغير ناقض ( أو طعام أو ماء ) إذا وصل إلى معدته وإن لم يستقر وهو نجس مغلظ ولو من صبي ساعة ارتضاعه هو الصحيح لمخالطة النجاسة(الدرالمختارعلی صدرردالمحتارج:1 ص: 137)

وصرحوا في باب الأنجاس أن نجاسة القيء مغلظةوفي معراج الدراية وعن أبي حنيفة قاء طعاما أو ماء فأصاب إنسانا شبرا في شبر لا يمنع وفي المجتبى الأصح أنه لا يمنع ما لم يفحش وهو صريح في أن نجاسته مخففة وحمله في فتح القدير على ما إذا قاء من ساعته وهو غير صحيح لأنه حينئذ طاهر كما قدمنا أنه غير ناقض(البحرالرئق ،کتاب الطھارۃ،ج:1 ص:37)


فتویٰ نمبر : 8899/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں