بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 20/10/2026 |
دارالافتاء
مشتبہ کھانا کھانے کا حکم
سوال
میرااپناسکول ہے اور اسکا پرنسپل بھی ہوں ہمارے سکول میں ایک فاسٹ فوڈکمپنی کا اونر بار بار آتا ہے اور کہتاہے میرے فاسٹ فوڈ کو یہاں پر اجازت دے دو اور آپکے اساتذہ کرام کو فاسٹ فوڈہماری کمپنی کی طرف سے مہیہ کی جائیگی اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ استعمال کرنا شرعی اعتبار سے درست ہے یا شرعی اعتبار سے درست نہیں برائے مہربانی راه نمائي فرمائيں؟
جواب
سوال:میرا اپنا سکول ہے اور اسکا پرنسپل بھی ہوں ہمارے سکول میں ایک فاسٹ فوڈکمپنی کا مالک بار بار آتا ہے اور کہتاہے میرے فاسٹ فوڈ کو یہاں پر اجازت دے دو اور اساتذہ کرام کو فاسٹ فوڈہماری کمپنی کی طرف سے مہیا کیا جائےگا اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ استعمال کرنا شرعی اعتبار سے درست ہے یا شرعی اعتبار سے درست نہیں برائے مہربانی را ہنمائی فرمائيں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
شر یعت مطہرہ کی رو سےرشوت لينا اور دينا حرام ہے ۔
فاسٹ فوڈوالے کو سکول میں اجازت دے کر اس سے اساتذہ کے لئے مفت فاسٹ فوڈ حاصل كرنے کی صورت میں اگر وه اس كی وجہ سے سکول کے طلبہ کو ناقص کوالٹی والے فاسٹ فوڈفراہم کرتا ہو یا معروف قیمت سے زیادہ پیسے وصول کرتا ہو تو اساتذہ کے لئے اس فاسٹ فوڈ کا لینا شرعا جائز نہ ہوگاکیونکہ یہ رشوت کے زمرے میں داخل ہوگا ۔
والدلیل علی ذالک:
واعلم بأن الرشوة أنواع منها أن يهدي الرجل إلى رجل مالا لا لابتغاء التودد والتحبب وهذا النوع حلال من جانب المهدي والمهدى إليه ونوع منها أن يهدي الرجل إلى رجل مالا بسبب أن ذلك الرجل قد خوفه فيهدي إليه مالا ليدفع الخوف عن نفسه أو يهدي إلى السلطان مالا ليدفع الظلم عن نفسه أو عن ماله وهذا نوع لا يحل الأخذ(الفتاوی الھندیة،کتاب ادب القاضي،الباب التاسع في رزق القاضي :ج3 ص:331)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں