بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

کرایہ پر گاڑی مہیا کرنے پر کمیشن لینا


سوال

اندرون ملک میں اسکریپ اور کھلا سامان سپلائی کرنے والی کمپنیاں ہیں ۔ہم انہیں کرایہ پر گاڑیوں کا بندوبست کرکے دیتے ہیں اور اس پر ہم اپنا کمیشن رکھتے ہیں ۔مثلا ہم ٹرک ایک لاکھ کرایہ  پر  اٹھاتے ہیں اور کمپنی والوں کو ڈیڑھ لاکھ کا ریٹ دیتے ہیں اور یہ کمیشن مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہوتا ہے،لیکن کمپنیوں کے مالک خود ہم سےڈیل نہیں کرتے ،بلکہ ان کے منیجر سے واسطہ  پڑتا ہے ۔جب ہم بل بناتے ہیں تو منیجر  ہم سے مطالبہ کرتا ہے  کہ بل میں میرا پانچ سے دس ہزار تک بڑھا کر رکھو اور وہ مجھے الگ سے دیا کرو۔کیا ہم مجبوری میں ان کا مطالبہ پورا کر سکتے ہیں ،کیونکہ ہم اپنا کام پوری ایمانداری سے کرتے ہیں ،مگر یہ مشکل در پیش آتی ہے۔اگر ایسا کرنا حرام ہے تو کوئی قابل عمل ترکیب بتا دیں ،کیونکہ اس کے علاوہ  میرا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں اور نہ میں کوئی دوسرا کام جانتا ہوں۔

جواب

          واضح رہے کہ خرید و فروخت  کے  معاملہ میں بائع اور مشتری   کے  درمیان واسطہ بننے والے کو اصطلاح فقہ میں سمسار یا دلال کہتے ہیں۔ضرورت  اور کثرت   تعامل کی وجہ سے فقہا ئےکرام نے دلال کے لیے  کمیشن لینے کو جائز قرار دیا ہے ،بشرطیکہ  کمیشن کی اجرت متعین ہو اور عقد بائع اور مشتری خود کرے اور دلال ان کے مابین صرف واسطہ ہو۔

          صورت مسئولہ میں اگر سائل سپلائی کمپنی اور گاڑیوں کے مالکان کے درمیان صرف بطور واسطہ کے کام کرتا ہو،یعنی سپلائی کمپنی والے اس سے متعین کمیشن پر گاڑیوں کے مہیا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوں اور پھر  عقد اجارہ گاڑیوں کے مالکان کے ساتھ خود کرتے ہوں تو اس صورت میں سائل کے لیے کرایہ پر گاڑیوں کے مہیا کرنے پر متعین کمیشن لینا جائز ہے ،کیونکہ اس صورت میں وہ ان کے مابین واسطہ ہے اور اس کی حیثیت ایک دلال کی ہے اور اگر  سائل ان دونوں کے درمیان بطور واسطہ کے کام نہ کرے ۔بلکہ دونوں کے ساتھ الگ الگ عقد کرے تو اس صورت  میں وہ د لال نہیں  ،بلکہ عاقد ہوگا۔چنانچہ سائل کا کمپنی والوں کے ساتھ سامان لے جانے کا عقد کرکے فی گاڑی کا کرایہ ایک لاکھ پچاس ہزار روپے مقرر کرنا اور پھر اس سامان کو لے جانے کے لیے گاڑیوں کے مالکان کے ساتھ ایک لاکھ روپے کرایہ پر عقد اجارہ کرنا  جائز ہے ،اس لیے کہ اس نے سامان لے جانے کی ذمہ داری قبول کی ہے  اب چاہے وہ اپنی گاڑیوں کے ذریعے لے جائے یا دوسروں کے ذریعے  دونوں صورتیں جائز ہیں ۔

جہاں تک سائل کا  منیجر کے لیے اس کے مطالبہ پر بل میں رقم بڑھانا  ہے تو سائل کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ،کیونکہ منیجر کا  اس طرح دھوکہ دہی کے ساتھ اضافی رقم لینا نا جائز ہےاورسائل کا اس دھوکہ دہی اور حرام کام میں منیجر کا ساتھ دینا گناہ  ہے۔

 

قال اللہ تعالی:﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾(سورۃالمائدۃ:2)

وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج:9،ص:87)

"وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله"؛ لأن المستحق عمل في ذمته، ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره بمنزلة إيفاء الدين.(الھدایۃ،کتاب الإجارات،باب الأجر متی یستحق،ج:6،ص:233)


فتویٰ نمبر : 2893/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں