بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
عمارت میں سرمایہ کاری اور اس سے منافع کا حصول
سوال
(الف) ایک ادارہ ہے ۔اس ادارہ کی ملکیت میں ایک قطعہ اراضی ہے جس پر وہ بلڈنگ تعمیر کرکے اسے اپنے کچھ مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے ،لیکن خود سرمایہ کاری کی بجائے کسی دوسرے سرمایہ کار (ب)کا سرمایہ اس میں لگانا چاہتا ہے، اس طور پر کہ ادارہ کی ملکیت بھی متاثر نہ ہو،ادارہ اس بلڈنگ سے فائدہ بھی اٹھائے اور سرمایہ کار کو جائز شرعی طریقہ کے مطابق اس کی سرمایہ کاری پر نفع بھی حاصل ہو، اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں ۔
جواب
شریعتِ مطہرہ کی رو سے اس بات کی اجازت ہے کہ کسی ایک شخص یا ادارے کی ملکیتی زمین کو دوسرا شخص بطورِ عاریت یعنی بلا عوض منافع حاصل کرکے یا اجارہ یعنی اجرت کے عوض منافع حاصل کرکے اس پر عمارت تعمیر کرے اور پھر ایک مخصوص عرصے تک اس کو خود استعمال کرے یا اس کو کرایہ پر دے کر اس کے عوض ملنے والی رقم کو اپنے استعمال میں لائے ۔ نیز ایسی صورت میں مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد زمین کا مالک اور عمارت کا مالک دونوں اگر باہم رضامندی سے دوسرے دورانیہ کے لیے اپنے اس معاہدے کو بڑھانا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے اور اگر دونوں یا دونوں میں سے ایک اس معاہدہ کو ختم کرنا چاہے تو ایسی صورت میں دو طریقے ممکن ہیں :
- عمارت کا مالک اپنی عمارت ہٹاکر زمین خالی کردے ۔
- طرفین کی رضامندی سے عمارت کی قیمت مقرر ہوجائے اور زمین کا مالک عمارت کو خرید کر اس کی قیمت دوسرے فریق کو حوالہ کردے ۔
اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ الف(ادارہ) کی ملکیت میں جو زمین ہے اور وہ اس پر دوسرے سرمایہ کار کے ذریعے عمارت بنواکر خود اس سے مستفید ہونا چاہتا ہے تو یہ دونوں فریق اپنے مقاصد کے حصول کے لیے شرعاً درج ذیل طریقہ کار کے مطابق معاہدہ کرسکتے ہیں :
(1)الف (ادارہ) جو زمین کامالک ہے وہ زمین کی ملکیت کو اپنے پاس رکھتے ہوئے، ب(سرمایہ کار) کو اس پر مخصوص مدت (مثلاً دس سال یا کم وبیش ) کے لیے عمارت بنانے کی اجازت دے دے۔
( 2) ب (سرمایہ کار) خود یا اس کا نمائندہ (جو خود الف بھی ہوسکتا ہے) اس زمین پر عمارت تعمیر کرے۔
(3)مکمل عمارت یا اس کا ایک حصہ جب تعمیر ہو کر قابلِ استعمال ہوجائے تو ب (سرمایہ کار) الف (ادارہ) کو وہ عمارت کرایہ پر دے دے اور طرفین باہم رضامندی سے اجارے کا معاملہ طے کریں۔
(4)الف (ادارہ) کرایہ پر حاصل شدہ عمارت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرکے حسبِ معاہدہ اس کا کرایہ ادا کرتا رہے۔
(5)جب تک ب(سرمایہ کار) اس عمارت کا مالک ہے اس وقت تک اس عمارت کا ضامن بھی وہ ہوگا ، یعنی اگر خدانخواستہ کسی حادثہ وغیرہ سے عمارت کو نقصان پہنچے تو ب(سرمایہ کار) ہی اس نقصان کا بار اٹھائے گا ، چنانچہ اس کی مرمت یا تعمیرِ نو کا خرچہ بھی ب(سرمایہ کار) پر آئے گا۔ تاہم عرف کے مطابق معمولی نوعیت کی جو مرمت کرایہ دار پر لازم ہوتی ہے، اس کے اخراجات الف (ادارہ) برداشت کرے گا۔
(6)معاہدہ کے مطابق مدت ختم ہونے کے بعد طرفین کی رضامندی سے از سرِ نو نئی مدت کے لیے اجارہ کیا جاسکتا ہے۔
(7)عمارت کی ملکیت ب (سرمایہ کار) سے الف (ادارہ )کی طرف منتقل ہونے کی دو صورتیں ہیں اور دونوں شرعاً جائز ہیں۔
پہلی صورت:عمارت کی تعمیر کے بعد اس کے یونٹ بنادیے جائیں اور ہر یونٹ کی قیمت مقرر کرلی جائے، مثلاً عمارت پانچ کروڑ میں مکمل ہوئی،تو اس کے 500 یونٹ بناکر فی یونٹ کی قیمت ایک لاکھ مقرر کردی جائے اور ب (سرمایہ کار)کی طرف سے الف (ادارہ) کو یہ پیش کش ہو کہ وہ جب جتنے یونٹ خریدنا چاہتا ہے تو خرید سکتا ہے ۔چنانچہ اس کے بعد الف (ادارہ) اپنی وسعت کے مطابق جب جتنے یونٹ خریدے گا اتنے یونٹ کا وہ مالک بنتا جائے گا اور اسی تناسب سے عمارت کے کرایہ میں بھی کمی آتی رہے گی ۔ مثلاً اگر کل کرایہ پانچ لاکھ روپے طے ہوا ہے اور ادارہ نے پانچ یونٹ ( یعنی کل کا ایک فیصد) خریدا ہے تو اگلے مہینے کے کرایہ میں ایک فیصد کرایہ (پانچ ہزار) کی کمی ہوجائے گی۔
دوسری صورت: یہ ہے کہ مقررہ مدت کے دوران وقتاً فوقتاً حصص خریدنے کی بجائے مقررہ مدت کے آخر میں طرفین کی رضامندی سے یا مارکیٹ ریٹ کے مطابق عمارت کی قیمت لگائی جائے اور الف (ادارہ) وہ قیمت ب کو ادا کرکے عمارت کی ملکیت حاصل کرلے۔
(و) تصح إجارة أرض (للبناء والغرس) وسائر الانتفاعات كطبخ آجر وخزف ومقيلا ومراحا حتى تلزم الأجرة بالتسليم أمكن زراعتها أم لا بحر (فإن مضت المدة قلعهما وسلمها فارغة) لعدم نهايتهما (إلا أن يغرم له المؤجر قيمته) أي البناء والغرس (مقلوعا) بأن تقوم الأرض بهما وبدونهما فيضمن ما بينهما اختيار (ويتملكه) بالنصب عطفا على " يغرم "؛ لأن فيه نظرا لهما.قال في البحر: وهذا الاستثناء من لزوم القلع على المستأجر، فأفاد أنه لا يلزمه القلع لو رضي المؤجر بدفع القيمة لكن إن كانت تنقص بتملكها جبرا على المستأجر وإلا فبرضاه (أو يرضى) المؤجر عطفا على " يغرم " (بتركه) أي البناء والغرس (فيكون البناء والغرس لهذا والأرض لهذا) وهذا الترك إن بأجر فإجارة وإلا فإعارة، فلهما أن يؤاجراهما لثالث ويقتسما الأجر على قيمة الأرض بلا بناء وعلى قيمة البناء بلا أرض، فيأخذ كل حصته۔(الدرالمختار ، كتاب الإجارة ، ج: 9 ص: 41)
وفي جامع الفصولين أيضا: لو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العقد جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لازمة فيجعل لازما لحاجة الناس۔(ردالمحتار ، مطلب في البيع بشرط فاسد ، ج: 7 ص: 281)
للمالك أن يوجر ماله ملكه لغيره مدة معلومة قصيرة كانت كيوم أو طويلة كسنين أو أكثر حتى لو آجرها إلي مدة لايعيش العاقدان إلى مثلها عادة جاز واختاره الخصاف ومنعه بعضهم وظاهر إطلاق المتون ترجيح الأول۔(شرح المجله لسليم رستم باز ، الكتاب الثاني في الإجارة ، المادة: 484 ص: 271)
ويجوز تجديد الإجارة لمدة أخرى بعدها سواء حصل التجديد قبل إنتهاء المدة الأصلية أم تلقائيّا بوضع نص في العقد بالتجديد عند دخول فترة جديدة إذا لم يتم الإشعار برغبة أحد الطرفين في عدم التجديد۔(المعايير الشرعية ، المعيار الشرعي رقم: 9 الإجارة والإجارة المنتهيه بالتمليك ، ص: 253
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں