بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
ایک مرتبہ دوددھ پینے سے رضاعت کا ثبوت
سوال
میں نے بچپن میں اپنی ساس کا دودھ پی لیا تھا، لیکن مجھے نکاح کے تیسرے سال معلوم ہوا۔ میں یہاں پر مختلف علمائے کرام سے پوچھا، انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی اور صحیح مسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی روایت اور ترمذی کی روایت بھی پیش کی۔قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے میں میری راہنمائی فرامائیں۔
جواب
شریعتِ مطہرہ کی رو سے جب کوئی بچہ مدتِ رضاعت (دو سال)میں کسی عورت کا دودھ پی لےتو حرمتِ رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔ حرمت کے ثبوت کے لیے دودھ پینے کی کوئی مقدار متعین نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾(النساء:23)، ترجمہ:(تم پر حرام کی گئی ہیں )تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دوودھ پلایا ہو اور تمہارے ساتھ دودھ پینے والی بہنیں"اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے "يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب" ترجمہ: "رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں"اس آیتِ کریمہ اور حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مطلقاً جب کوئی بچہ کسی عورت کے پستان سے دودھ پی لے تو حرمتِ رضاعت ثابت ہو جاتی ہے،چاہے کم پیے یا زیادہ ، کیونکہ کم وزیادہ کی قید نہ اس آیت میں ہے اور نہ حدیث میں۔یہی مذہب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت ابن عمرؓ ، حضرت ابن عباسؓ اور تابعین میں سے سعيد بن المسيب ؒ، حسنؒ ،عطاءؒ، مكحولؒ اورطاؤوسؒ وغیرہ کا ہے۔ جہاں تک حضرت عائشہ کی روایت یا دیگر ان روایات کا تعلق ہےجو ایک مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں ، محدثین حضرات اور فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق وہ روایات یا تو منسوخ ہیں اور یا بوجہ اضطراب کے وہ استدلال کے قابل نہیں، چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے منقول ہے کہ وہ ان روایات کو منسوخ قرار دیتے تھے، جب کہ علامہ ابن بطال نے ان روایات کو مضطرب قرار دیا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کو یقینی طور پر معلوم ہوکہ اس نے واقعی اپنی ساس کا دودھ ایک مرتبہ پیاہے تو اس سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوئی ہے اور یہ نکاح فاسد ہے، اس لیے دونوں پر لازم ہے کہ ازدواجی تعلقات ختم کرکے شوہر بیوی کو طلاق وغیرہ کے الفاظ سے جدا کر دے۔
عن أبي الزبير قال : أرسلنى عطاء ورجلا معى إلى عبد الله بن عمر رضى الله عنه فسألناه عن المرأة ترضع الصبى فى المهد أو الجارية رضعة واحدة. قال : هى عليه حرام. قال قلت : فإن عائشة وابن الزبير يزعمان أنه لا يحرمها رضعتان ولا ثلاث. قال : كتاب الله أصدق من قولهما وقرأ آية الرضاعة۔(سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الرضاع، باب من قال يحرم قليل الرضاع وكثيره، ج:11، ص:458)
وكأنه أشار بهذا إلى أنه ممن يرى أن قليل الرضاع وكثيره سواء في الحرمة وهو قول علي وابن مسعود وابن عمر وابن عباس وسعيد بن المسيب والحسن وعطاء ومكحول وطاووس والحكم وأبي حنيفة وأصحابه والليث بن سعد ومالك والأوزاعي والثوري لإطلاق الآية وهو المشهور عن أحمد۔(عمدة القاري، كتاب النكاح، باب من قال لا رضاع بعد الحولين، ض:20، ص:96)
قال أبو بكر وهذه الأخبار لا يجوز الاعتراض بها على ظاهر قوله تعالى وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم وأخواتكم من الرضاعة لما بينا أن مالم يثبت خصوصه من ظواهر القرآن۔(أحكام القرآن للجصاص، مطلب اختلف السلف في التحريم بقليل الرضاع، ج:2، ص:155)
إن أحاديث عائشة في الرضاعة اضطربت فوجب تركها والرجوع إلى كتاب الله۔(شرح صيح البخاري لابن البطال، باب من قال لارضاعة بعد الحولين، ج:7، ص:199)
وأما حديث لا تحرم المصة ولا المصتان وما دل على التقدير فمنسوخ صرح بنسخه ابن عباس رضي الله عنهما حين قيل له إن الناس يقولون إن الرضعة لا تحرم فقال كان ذلك ثم نسخ۔(البحر الرائق، كتاب الرضاع، ج:2، ص:631)
(ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير۔(الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:4، ص:398)
فالرضاع يظهر بأحد أمرين أحدهما الإقرار والثاني البينة أماالإقرار فهو أن يقول لامرأة تزوجها هي أختي من الرضاع۔۔۔وأما البينة فهي أن يشهد على الرضاع رجلان أو رجل وامرأتان ولا يقبل على الرضاع أقل من ذلك۔۔۔وإذا شهدت امرأة على الرضاع فالأفضل للزوج أن يفارقها۔(بدائع الصنائع، كتاب الرضاع، فصل في ما يثبت به الرضاع، ج:5،ص:103-106)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں