بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لیبارٹری میں خون یا پیشاب کے بوتل پر نام لکھنا


سوال

لیبارٹری میں  پیشاب کے ٹیسٹ کے ذریعہ  مختلف بیماریوں کی تشخیص کی جاتی ہے ۔جس کے لیے  ہر آدمی کا نام پیشاب سے بھری بوتل پر لکھا جاتا ہے،لیکن بعض اوقات کسی نام کے ساتھ اللہ کا ذاتی یا صفاتی نام  ہوتا ہے مثلا عبد اللہ ،عبد الخالق وغیرہ  تو کیا اس پیشاب بھری بوتل پراس طرح کا نام لکھنا جائز ہوگا؟

جواب

          شرعی نقطہ نظر سے کسی کاغذ، کپڑے یا دوسری چیزوں پر اسمائے باری تعالی، قرانی آیت لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔تاہم جہاں کہیں ان مبارک کلمات کی بے ادبی کا خدشہ ہو تو فقہائے کرام نے ایسے مقامات پر اسمائے باری تعالی، آیات قرانیہ یا کلمات طیبہ لکھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

         صورت مسئولہ کے مطابق لیبارٹری میں خون یا پیشاب سے بھری بوتل پر اسمائے باری تعالی، انبیاءکرام یا دیگر کلمات طیبہ سے مرکب نام لکھنا بے ادبی سے خالی نہیں، کیونکہ اکثر یہ بوتل استعمال کے دوران ناپاک ہوجاتے ہیں۔نیز  استعمال کے بعد ان بوتلوں کو کوڑاکرکٹ میں پھینکا جاتا ہے۔اس لیے پہچان کے لیےان پر اسمائے باری تعالی یادیگر مقدس کلمات سے مرکب نام لکھنے کی بجائے کوئی کنایہ، کوڈ نمبر یا نام کے مقدس کلمہ کی جگہ انگریزی کے حروف AB وغیرہ  لکھنا چاہیے۔

 

لا بأس بكتابة اسم الله تعالى على الدراهم؛ لأن قصد صاحبه العلامة لا التهاون، كذا في جواهر الأخلاطي۔۔۔وعلى هذا إذا كان في جيبه دراهم مكتوب فيها اسم الله تعالى، أو شيء من القرآن فأدخلها مع نفسه المخرج يكره،(الفتاوی الھندیة، کتاب الکراھیة، الباب الخامس فی اداب المسجد، ج:5،ص:373، دارالفکر)

بساط أو مصلى كتب عليه الملك لله يكره بسطه والقعود عليه واستعماله، وعلى هذا قالوا: لا يجوز أن يتخذ قطعة بياض مكتوب عليه اسم الله تعالى علامة فيما بين الأوراق لما فيه من الابتذال باسم الله تعالى،أیضاً ج:5، ص:374)


فتویٰ نمبر : 4764/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں