بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 28/10/2026 |
دارالافتاء
غیرمسلم کی تعزیّت اوربطورِایصال ثواب فاتحہ خوانی کرنےکاحکم
سوال
ہمارےعلاقےمیں غیرمسلم آبادہیں،جن کےساتھ ہماری رشتہ داریاں بھی ہیں،خوشی اورغم کےساعات میں ایک دوسرےکےہاں آناجاناہوتاہے۔سوال یہ ہےکہ اگران کےہاں فوتگی ہوتی ہے،توہم ان کےہاں تعزیّت کےلیےجاتےہیں،دوسری بات یہ کہ تعزیّت میں سورۃ فاتحہ اورسورۃ اخلاص بطورِایصال ثواب پڑھتےہیں،توتعزیّت کایہ طریقہ درست ہے؟اگریہ طریقہ درست نہ ہو،توکونساطریقہ اپنایاجائےتاکہ رشتہ داری باقی رہے؟
جواب
اگرکوئی کافرفوت ہوجائےتومسلمانوں کےلیےاس کےرشتہ داروں کےساتھ تعزیّت کرنامرخص ہے،کیوں کہ تعزیّت ایک قسم کاحسنِ سلوک ہے،اورکفارکےساتھ عام حسنِ سلوک کرنےسےشریعت میں منع نہیں کیاگیاہے،البتہ مسلمان کاکسی کافرکےلیےمرنےکےبعدبطورایصال ثواب فاتحہ خوانی اوردعائے مغفرت جائزنہیں۔
صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرکسی کےغیرمسلم رشتہ داروں میں فوتگی ہوجائے،تومیّت کےاقربا كے پاس جاكرتعزیت کرنےمیں کوئی حرج نہیں،البتہ تعزیت ميں بطورایصال ثواب فاتحہ خوانی اوردعائےمغفرت سےاجتناب لازم ہے،اس لیےکہ کافرکےلیےمغفرت کی دعاکرنےسےشریعت میں ممانعت واردہے۔
جار يهودي أو مجوسي مات ابن له أو قريب ينبغي أن يعزيه.(ردالمحتار، کتاب الحظروالإباحة،باب الاستبرآءوغیرہ،ج9،ص557)
وإذا مات الكافر قال لوالده أو قريبه في تعزيته أخلف الله عليك خيرا منه وأصلحك أي أصلحك بالإسلام ورزقك ولدا مسلما لأن الخيرية به تظھر.(الفتاوی الھندیة، کتاب الحظروالإباحة،الباب الرّابع عشر:في أھل الذمة..،ج5،ص402)
والحق حرمة الدّعاء بالمغفرۃ للکافر.(الدّرالمختار،کتاب الصلوۃ،باب صفة الصلوۃ،فصل:وإذا أرادالشّروع،ج2،ص236)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 331
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 248
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 907
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 458
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 578
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 499
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 34
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 479
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 83
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 64
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 328
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1203
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 391
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں