بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جانور پالنے کی اجرت


سوال

ایک شخص نے دوسرے کو 60بکریاں دئے ، کہ تم اس کو پالتے رہو، ڈیڑھ سال بعد اس کے جتنے بچے ہونگے، وہ ہم دونوں کے درمیان تقسیم ہونگے، کیا یہ معاملہ شرعاً جائز ہے؟

جواب

             شریعت مطہرہ نے ہر اس  معاملہ کو ممنوع قرار دیا ہے، جس میں جہالت کی وجہ سے طرفین کے باہمی نزاع کا خطرہ ہو،  چنانچہ   اجارہ میں  یہ ضروری ہے کہ اجرت اور مدت اجارہ متعین ہو، ورنہ عدم تعیین کی صورت میں اجارہ فاسد رہتا ہے ۔

          صورت مسئولہ میں چونکہ جانور کے بچے پیدا ہونے کا کوئی قطعی اور یقینی علم نہیں ہوتا، اس لئے جانور پالنے کی اجرت بچے مقرر کرنا جائز نہیں، اس کی بجائے پیسوں وغیرہ کی شکل میں اجرت متعین کی جائے۔

 

وكذا لو دفع الدجاج على أن يكون البيض بينهما أو بزر الفيلق على أن يكون الإبريسم بينهما لا يجوز والحادث كله لصاحب الدجاج والبزر.  ( الفتاوی الھندية، کتاب الاجارۃ،  الباب الخامس عشر ما یجوز من الاجارۃ وما لا یجوز،  الفصل الثالث فی قفیز الطحان وما ہو معناہ،ج :4 ص: 481)


فتویٰ نمبر : 2879/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں