بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

نذر کے جانور کاگوشت خود استعمال کرنا


سوال

اگر کوئی شخص کسی جانور کی نذر مانے اور اس کا خیال یہ ہو کہ وہ اس کے گوشت کو تقسیم کرےگا، تو (1)کیا یہ شخص اس گوشت کو خود یا اپنے گھر والوں کو کھلا سکتا ہے؟(2)اگر وہ یہ گوشت کسی فقیر کو دےدے اور پھر فقیر اس کے گھر والوں کو واپس دے دے تو کیا اس صورت میں اس کے گھر والوں کے لیے اس کا کھانا جائز ہوگا؟

جواب

              واضح رہے کہ نذر کی چیز کا مصرف وہی ہے جو زکوۃ کا مصرف ہے، لہٰذا جس طرح کوئی شخص زکوۃ خود یا اپنے اہل و عیال کے استعمال میں نہیں لا سکتا اسی طرح نذر کی چیز کو بھی اپنے یا اپنے اہل و عیال کے استعمال میں نہیں لاسکتا۔

  1. صورت مسئولہ میں یہ شخص نذر کے جانور کا گوشت نہ خود کھا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے اہل و عیال کو کھلا سکتا ہے۔ اگر خود کھایا یا اہل و عیال کو کھلایا تو اس کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
  2. اگر کسی فقیر کو یہ گوشت بغیر کسی شرط کے تملیکاً دے دیا جائے، اور  پھر  وہ اپنی رضا و رغبت سے اس کو ہبہ کرنا چاہے تو اس صورت میں اس کے لیے اور اس کے اہل و عیال کےلیے اس کے استعمال کی گنجائش ہوگی۔

 

عن أنس رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بلحم تصدق به على بريرة، فقال: «هو عليها صدقة، وهو لنا هدية». (صحيح البخاري، كتاب الزكاة، باب إذا تحولت الصدقة،  رقم الحدیث:1495،ج:1،ص:406)

ولو ذبحها تصدق بلحمها، ولو نقصها تصدق بقيمة النقصان أيضا ولا يأكل الناذر منها؛ فإن أكل تصدق بقيمة ما أكل. (الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب الأضحية، ج:9، ص:4649)


فتویٰ نمبر : 8893/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں