بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

رب المال کے لیے منافع متعین کیے بغیر مضاربت کرنا


سوال

اگر ایک شخص نے کسی سے پیسے لیے کہ اس سے وہ کاروبار کرےگااوررقم دینے والے کو بھی ہر ماہ کچھ نفع دےگا لیکن متعین نہیں کیابلکہ کبھی تین ہزار اور کبھی پانچ ہزار وغیرہ دیتا ہے، البتہ نفع اور نقصان میں وہ اس کے ساتھ شریک نہیں ہوگا، کیا یہ معاملہ جائز ہے؟

جواب

         فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق ایک شخص کے سرمائے اور دوسرے شخص کی محنت سے چلنےوالا کاروبار  مضاربت کہلاتا ہے، جس کے جواز کے لیے شریعت نے کچھ شرائط مقرر کی ہیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ عاقدین(سرمایہ کار اور مضارب دونوں) کاروبار کے نفع میں شریک ہوں، اور منافع میں سے دونوں کا حصہ تناسب کے اعتبار سے متعین ہو۔ لہٰذا جہاں کہیں یہ شرط موجود نہ ہو تو وہاں عقدِ مضاربت شرعاً درست نہ ہوگا۔

            صورت مسئولہ میں سائل کے بیان کےمطابق چونکہ رب المال(سرمایہ کار) مضارب کے ساتھ کاروبار کے نفع میں شریک نہیں ہے اور نہ ہی اس کا حصہ نفع میں سے متعین نہیں  ہے  اس لیے شرعاًیہ عقد ِ مضاربت نہیں بلکہ محض قرض کا عقد بن جاتا ہے جس کے بدلے قرض خواہ کے لیے قرض دار سے کسی قسم کی منفعت حاصل کرنا سود ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔

 

 ومنها أن يكون نصيب المضارب من الربح معلوما على وجه لا تنقطع به الشركة في الربح كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب المضاربة، الباب الأول في تفسيرها وركنها وشرائطها وحكمها، ج:4/ ص:295)

وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى الموهونة بإذن الراهن.(الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، ج:7، ص:395)


فتویٰ نمبر : 2877/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں