بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

پلاسٹک سرجری کا حکم


سوال

کیا اسلام آرائشی سرجری کی اجازت دیتا ہے ،اگر ہاں تو کن حالات میں ؟ اگر کسی عضو میں نقص ہو تو کیا اس کو پلاسٹک سرجری کے ذریعے ٹھیک کیا جاسکتا ہے ۔بعض لوگ اور ڈاکٹر اس کو آرائشی سرجری کا جواز بناتے ہیں کہ اس سے نفسیاتی طور پر مریض ٹھیک ہوجاتا ہے ۔کیا اس کایہ جواز ہے ؟

جواب

               اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جسم اللہ کی امانت ہے۔انسان اپنے اعضائے جسم کا مالک نہیں ہے کہ ان میں جس طرح چاہے تصرف کرے، شریعت مطہرہ کے رو سے اگر چہ حسن وجمال میں اضافہ کے لئے خارجی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں ،لیکن جسم کے اعضا یا ان کی ہیئت میں کوئی تبدیلی کرانا جائز نہیں ہے،چنانچہ  رسول اللہ ﷺ نے مصنوعی طور پر بال لگانا یا خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کونا جائز ، قابلِ لعنت، اور اللہ کی خلقت میں تغیر قراردیا ہے۔

              لہذا عام حالات میں کسی ضرورت کے بغیرمحض زیب وزینت ،حسن میں اضافہ یا حسن کو زیادہ عرصہ برقرار رکھنے کے لیےانسانی جسم میں قطع وبرید کرنے کی شرعا اجازت نہیں ہے، البتہ اگر پیدائشی طور پر یا کسی مرض اور حادثے کی وجہ سےجسم میں کوئی ایساعیب پیدا ہو گیا ہوجوبدہیئت اوربدنمامعلوم ہوتا ہو، نیزوہ عیب عمرکاطبعی تقاضابھی نہ ہواورایسے عیب کے ازالےکے لیے سرجری  کے علاوہ کوئی  اور صورت بھی ممکن نہ ہو تو اس کے لئے بقدرضرورت پلاسٹک سرجری کی گنجائش ہے ،چنانچہ اگرپیدائشی طور پر انسانی جسم میں کوئی ایسا عیب ہو جوعام قانون فطرت سے ہٹ کر ہو مثلا ہونٹ یا تالو کا کٹا ہوا ہونا، آنکھوں میں ٹیڑا پن، ناک یا ہاتھ پاؤں کا ٹیڑھا ہونا یا ہاتھ، پاؤں میں انگلیوں کا زیادہ ہونا یا آنکھ کی پتلیوں کا غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے آنکھ پر گرے رہنا وغیرہ، تو ایسی حالت میں پلاسٹک سرجری کی گنجائش ہے  کیونکہ یہ تغیر لخلق اللہ میں داخل نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے اعضا کو اپنی فطری حالت کے موافق کرنا ہے جو کہ جائز ہے  ۔ نیز پلاسٹک سرجری میں اگر انسانی اجزا سے انتفاع کے بغیر عیب دور نہ ہو سکتا ہو تو ایسی صورت حال میں مریض کے  اپنے بدن کا کوئی جز اسی کے جسم کے متاثرہ حصے میں استعمال کرنے کی بھی  گنجائش ہے تاکہ وہ طبعی حالات کے موافق ہو جائے بشرطیکہ جس  جگہ سےجلد یا گوشت لیا ہے وہ جگہ صورت اور عمل کے لحاظ سےمتاثر نہ ہو۔

جہاں تک اس بات کاتعلق ہے کہ بعض لوگ اور ڈاکٹر حضرات یہ کہتے ہیں کہ سرجری سے مریض نفسیاتی طور پر ٹھیک ہوجاتا ہے اور اس بات کو آرائشی سرجری کے لیے جواز بناتے ہیں ،تو اس میں کوئی شک نہیں کہ نفسیاتی اور روحانی اذیتیں بعض اوقات جسمانی اذیتوں سے زیادہ اذیت اور تکلیف کا باعث ہوتی ہیں، تاہم یہاں پر اس کا اعتبار اس وقت کیا جائے گا جب جسم کا کوئی عیب اپنی بدنمائی،بدشکلی اور بدہیئتی کی وجہ سے نفسیاتی تکلیف اور اذیت کا باعث ہو اور انسان اس عیب کی وجہ سے احساسِ کمتری میں مبتلا ہوگیا ہو اور اس کے لیے دوسروں کے ساتھ رہن سہن برقرار رکھنا مشکل اور ایک آزمائش بن گیا ہو، تو ایسی صورت میں اسےحاجت کے درجہ میں شمار کیا جاسکتا ہے  ،چنانچہ اگر اس عیب کا ازالہ آپریشن اور سرجری کے بغیر ممکن نہ ہو تو سرجری کی اجازت ہوگی ،البتہ نفسیاتی اذیت کوجواز بناکر بغیر ضرورت کے محض زیب وزینت ،حسن میں اضافہ یا حسن کو زیادہ عرصہ برقرار رکھنے کے لیے سرجری کرانے کی اجازت نہیں ۔

 

عن عبد اللہ قال :"لعن رسول اللہ ﷺ الواشمات،والمتفلجات،والمتنمصات المغیرات خلق اللہ عز وجل"( سنن النسائی ،کتاب الزینة ، باب المتنمصات ،رقم الحدیث : 5099 )

إذا ارادالرجل أن یقطع إصبعازائدا،أوشیاآخر،قال نصیررحمہ اللہ:إن کان الغالب علی من قطع مثل ذلک الھلاک فإنہ لایفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك ۔( الفتاوى الهندية کتاب الکراھیة ، ج:5 ص:360 ، دار الفكر)

وإعادة جزء منفصل إلى مكانه ليلتئم جائز كما إذا قطع شيء من عضوه فأعاده إلى مكانه فأما سن غيره فلا يحتمل ذلك.والثاني أن استعمال جزء منفصل عن غيره من بني آدم إهانة بذلك الغير والآدمي بجميع أجزائه مكرم ولا إهانة في استعمال جزء نفسه في الإعادة إلى مكانه۔(بدائع الصنائع ، كتاب الاستحسان ، باب ركن البيع ، ج: 5 ص: 133)

والحاصل أن كل ما یفعل من جسم من الزیادة أونقص من أجل الزینة بما یجعل الزیادة أو النقصان مستمرا مع الجسم وبما یبدو منه أنه كان فی أصل الخلقةهكذا فانه تلبیس وتغییر منهي عنه ـ وأما ما تزینت به المرأةمن تحمیر الأیدی أو الشفاه أو العارضیین بما لا یلتبس بأصل الخلقة فإنه لیس داخلا فی النهي عند جمهور العلماء ـ وأما قطع الإصبع الزائدة ونحوها لیس تغییرا لخق الله وإنه من قبیل إزالة العیب أو مرض، فأجازه أكثر العلماء خلافا لبعضهم۔(تكملة فتح الملهم، كتاب الباس والزينة، ج:4 ، ص: 195)


فتویٰ نمبر : 4760/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں