بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

میت کے کپڑے، جوتے وغیرہ صدقہ کرنا


سوال

 ایک شخص کا انتقال ہوگیا اور اس کے ورثا میں سب بالغ ہیں ،ورثا میت کے کپڑے، جوتے وغیرہ مسجد کے امام کو دینا چاہتے ہیں، تو کیا تقسیم سے پہلے اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟

جواب

            شرعی نقطہ نظر سے وفات کے وقت میت کی ملکیت میں جو کچھ موجود ہو وہ سب اس کے ترکہ میں سے شمار ہوتا ہے، جسے ورثا کے مابین ان کے شرعی حصص کے بقدر تقسیم کیا جائے گا ۔تقسیم ترکہ سے پہلے کسی وارث کو یہ حق نہیں کہ وہ مشترکہ ترکہ میں سے دیگرورثا کی رضامندی کے بغیر کوئی تصرف کرے ،البتہ اگر سب  ورثا راضی ہوں تو ان کی رضامندی سے ترکہ میں تصرف کرنے کی اجازت ہے۔

            صورتِ مسئولہ کے مطابق جب میت کے تمام ورثا بالغ ہوں اور وہ میت کے استعمال شدہ اشیا (کپڑے، جوتے وغیرہ) باہمی رضامندی سے کسی کو صدقہ کرنا چاہیں تو شرعاً ان کو اس کا اختیار حاصل ہے ۔

 

لأن تركة الميت ماتركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال۔ (ردالمحتار ، كتاب الفرائض ، ج:10 ص: 493)

يجوز لأحد أصحاب الحصص التصرف مستقلا في الملك المشترك بإذن الآخر ، لكن لايجوز له أن يتصرف تصرفا مضرا بالشريك ، والإذن نوعان: صريح و دلالة ، ففي الأول يتصرف الشريك بحصة شريكه كما أذنه سواء أضر أو لم يضر فله أن يرهن و يبيع أو يهب ۔(شرح المجلة لسليم رستم باز ، الكتاب العاشر  في أنواع الشركات ، الفصل الثاني ، الماده: 1071 ص:600)


فتویٰ نمبر : 4193/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں