بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

شیعہ کوعلی الاطلاق کافرنہ ماننےوالےکوقربانی میں شریک کرنا


سوال

ایک شخص علی  الاطلاق شیعہ کوکافرنہیں سمجھتا،بلکہ جن کےکفریہ عقائدہیں انہیں کافرسمجھتاہےتوایسےبندہ (جوشیعہ کوعلی الاطلاق کافرنہیں سمجھتا)کوقربانی میں شریک کرناجائزہےیانہیں؟نیزاس کوشریک کرنےکی صورت میں دوسروں کی قربانی ہوجائےگی یانہیں؟

جواب

               فقہاےکرامؒ کی عبارات سےمعلوم ہوتاہےکہ شیعہ علی الاطلاق کافر نہیں ،بلکہ جن کےعقائدکفرکی حدتک پہنچےہوں، مثلاً وہ قرآن پاک میں تحریف کے قائل ہوں یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو الہٰ  مانتے ہوں ، یا حضرت ابوبکر صدیق کی صحابیت کے منکر ہوں ،یا جبریل علیہ السلام کے  متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ ان سے وحی پہنچانے میں غلطی ہوگئی یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگاتے ہوں، وہ اسلام سے خارج ہیں ،البتہ وہ فرقہ جس کے عقائد کفرکی حدتک نہ پہنچےہوں ،انہیں کافرنہیں کہاجاسکتا۔

               صورت مسئولہ کےمطابق جوشخص شیعہ کوعلی الاطلاق کافرنہیں سمجھتا ،بلکہ  جن کےعقائدنصوص کےخلاف ہیں ،انہیں کافرسمجھتاہےتو چونکہ اس کایہ عقیدہ اہل السنۃ والجماعۃ کےعقائدکےموافق ہے،اس لیےاس کواس پر   ملامت  نہیں کیاجاسکتا،لہذا اس کودوسرےمسلمانوں کی طرح قربانی میں شریک کرناجائزہے،اوردیگرشرکا کی قربانی  اس کی شرکت کی وجہ سےمتاثرنہ ہوگی۔

 

نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن...وأما الرافضي ساب الشيخين بدون قذف للسيدة عائشة ولا إنكار لصحبة الصديق ونحو ذلك فليس بكفر فضلا عن عدم قبول التوبة بل هو ضلال وبدعة. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، مطلب مهم في حكم سب الشيخين، 6/378، دارالکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 8892/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں