بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

موذی شخص کو بددعا دینا


سوال

اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو ایذائیں دیتا جائے،تواس کےشرور سے بچنے کا اسلامی طریقہ کیا ہے؟

جواب

              شریعت مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق  ہر شخص  کو دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اورالفت ومحبت  کا برتاؤ کرنا چاہیے۔دوسرے کو اذیت دینے سے  اپنے آپ کو  بچانا لازم ہے،اگر کوئی شخص ظلم وزیادتی اور  اذیت پہنچانے پر اترآئے تو حتی الوسع اس کے ساتھ بھی معافی اور حسن سلوک  کا برتاؤ کرنا اخلاق کا اعلی  درجہ ہے۔تاہم اگر کہیں ایسی صورت ہو  کہ وہ شخص  اذیت پہنچانے  سے کسی طرح بھی  باز نہ آتا ہو،تو پھر  اس سے بدلہ لینے کی بھی شریعت نے اجازت دی ہے، بشرط یہ کہ بدلے میں  زیادتی کا   ارتکاب نہ ہو۔ البتہ بددعا دینے سے حتی الوسع بچناچاہیے  ۔

 

قال الله تعالی: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ۔(حم السجدة:38)

وقال  : وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ(الشوری:40)

وقال:لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا(النساء:148)

(لا يحب الله الجهر بالسوء من القول إلا من ظلم)قال ابن عباس وقتادة إلا أن یدعو علی  ظالمہ۔(احكام القرآن للجصاص ،ج:2ص:291)

عن أنس بن مالك قال:قال رسول الله صل الله عليه وسلم وصل من قطعك وأعف عمن ظلمك۔(شعب الإيمان باب في صلة الأرحام،ج:6ص:222)


فتویٰ نمبر : 4759/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں