بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

والدہ کا اپنا حصّہ بیٹے پر فروخت کرنا


سوال

کیاکوئی خاتون شوہر سے میراث میں ملے ہوئے حصّے کو اپنے بیٹےپر فروخت کرسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

               واضح رہے کہ شریعت  نے ہر شخص  کو اپنی مملوکہ چیز میں جائز تصرفات جیسے ہبہ ،وقف ،بیع،اجارہ وغیرہ کا حق دیا ہے،لہذا جو چیز میراث کے طور پر کسی کی ملکیت میں آجائے تو وہ اس میں  ہر طرح کا جائز تصرف کر سکتا ہے۔

          صورت مسئولہ میں اگر کوئی خاتون شوہر سے میراث میں ملے ہوئے  حصّے کو فروخت  کرنا چاہے تو فروخت کر سکتی ہے چاہے اپنے بیٹے پر ہو یا  اپنے بیٹے کے علاوہ کسی اورپرہو۔

         

البيع هو مبادلة المال بالمال بالتراضي۔(البحر الرائق،كتاب البيوع ،ج 5ص430)

لا يمنع شخص من التصرف في ملكه۔(شرح المجلّة لسليم رستم باز،الكتاب العاشر في أنواع الشركات،المادة:1197،ص657)


فتویٰ نمبر : 2875/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں