بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

رقم کی یکمشت ادائیگی کی صورت میں کمپنی کی طرف سے ڈسکاؤنٹ دینے کا حکم


سوال

 پشاور میں ایک پلازہ بن رہا ہے جس  پر کام جاری ہے ابھی تک بنا  نہیں ہے ہم نے جتنے پیسے انوسٹ کیے  ہیں  یعنی وہاں پر جو فلیٹ  لی ہے تو وہ کمپنی والے اس کے ایک پرسنٹ ڈسکاؤنٹ کے نام پر  ہمیں   ہر مہینے دیتے ہیں  اور یہ تب تک دینگے جب تک وہ فلیٹ  بن نہ جائے تو کیا از روئے شریعت   ہمارے لیے ان پیسوں کا استعمال  جائز ہےیا نہیں ؟

جواب

            شرعی نقطہ نظر سے کوئی چیز نقد کم قیمت جبکہ قسط وار زیادہ قیمت  پر فروخت کرنا  جائز ہے البتہ ایسی بیع میں متعاقدین پر لازم ہے کہ بوقت عقد مبیع کی قیمت  اور ادھار ہونے کی صورت میں رقم کی ادائیگی کے لئے مدت متعین کرلیں۔  

              لہذا صورت مسئولہ میں  اگر کمپنی نے دوکانوں / فلیٹس وغیرہ کی  ایک  قیمت متعین کی ہو  اور یہ آفردیاہو کہ جو رقم کی یکمشت ادائیگی کرے اسے کچھ ڈسکاونٹ دیا جائے گا تو یہ درست ہے۔البتہ عقد کے وقت یہ طے کرنا لازم ہو گا کہ ادئیگی قسط وار ہوگی یا  یکمشت  اور ڈسکاونٹ کے بعد کس قیمت پر سودا ہو رہا ہے۔

        اگر کمپنی کے ساتھ عقد کے وقت طے ہو جائے کہ یکمشت ادائیگی ہو گی اور ڈسکاؤنٹ کے بعد بقیہ رقم  متعین کر کے اس پر عقد  طے ہو جائے ،مثلا:  اصل قیمت 20 لاکھ ہو اور یکمشت ادائیگی کرنے والے کو 10 فیصد ڈسکاؤنٹ دے کر 18 لاکھ پر عقد ہو جائےتو ایسی صورت میں کمپنی کسٹمر سےاٹھا رہ لاکھ ہی وصول کر سکتی ہے  زائد رقم لینے کا  استحقاق نہیں رکھتی  اور  اگر کمپنی  اور کسٹمر کے مابین  پوری قیمت  20 لاکھ پر ہی عقد  ہو جائے تو کسٹمر پوری قیمت ادا کرنے کا پابند ہوگا،تاہم وصول شدہ رقم میں سے اگر کمپنی کچھ مقدار میں  اپنی مرضی سے واپس کرنا چاہے تو جس وقت اور جتنی مقدار میں چاہے واپس کر سکتی ہے  اور کسٹمر کےلیے اس کا  استعمال جائز ہے،لیکن   وہ کسٹمر کا حق نہ ہو گا   لہذا کسٹمر اس کا مطالبہ نہیں کر سکتا بلکہ کمپنی کی طرف سے تبرع و احسان ہو گااس لیے  کمپنی کواس میں مکمل اختیا ر ہو گا کہ دے یا نہ دے اور اگر دے تو کس مقدارمیں دے۔

 

وكذا إذا قال بعتك هذا العبد بألف درهم إلى سنة أو بألف وخمسمائة إلى سنتين لأن الثمن مجهول ۔۔۔ فإذا علم ورضي به جاز البيع لأن المانع من الجواز وهو الجهالة عند العقد وقد زالت في المجلس وله حكم حالة العقد فصار كأنه كان معلوما عند العقد وإن لم يعلم به حتى إذا افترقا تقرر الفساد۔  (بدائع الصنائع ، فصل و اما شرائط الصحة فانواع ، ج5 ، ص158)

قال ويجوز للمشتري أن يزيد للبائع في الثمن ويجوز للبائع أن يزيد للمشتري في المبيع ويجوز أن يحط من الثمن ويتعلق الاستحقاق بجميع ذلك فالزيادة والحط يلتحقان بأصل العقد عندنا۔  (الهداية شرح البداية ، ج3 ، ص60)

لو باع باثني عشر وحط عنه درهمين ثم عقدا بعشرة لا ينفسخ الأول لأنه مثله إذ الحط يلتحق بأصل العقد۔ (البحر الرائق ، باب الإقالة ،ج6،ص114)


فتویٰ نمبر : 3125/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں