بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

پاکستانی روپے قرض دے کر ڈالر وصول کرنا


سوال

زید نے عمرو کو ایک لاکھ پاکستانی روپے قرض دیے  اوریہ کہا کہ آپ مجھے دو ماہ بعد پاکستانی روپے کے بدلے دس ہزار ڈالر دو گے اور عمرو نے قبول کیا ۔حالانکہ  آج کا ریٹ اس  سےکم ہے یعنی ایک لاکھ پاکستانی سے نو سو ڈالر بنتے ہیں ۔ کیا شرعا ًایسا معاملہ جائز ہے؟

جواب

        شریعتِ  مطہرہ  کی رو سے  قرض کو اس  کی مثل سے ہی ادا کیا جائے گا اور قرض خواہ کے لیےاس  کے علاوہ کسی اور چیز  کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔

        لہذا صورتِ مسئولہ میں زید کا عمرو کو ایک لاکھ پاکستانی روپے قرض دے کر دو ماہ بعد دس ہزار ڈالر کی واپسی کی شرط لگانا  شرعاً جائز نہیں ۔ تاہم اگر زید  عمرو سے پاکستانی روپے کے بدلے ڈالر  موجودہ قیمت سے کم قیمت پرادھار خرید لے اور پاکستانی روپے مجلس عقد ہی میں ادا کر کے عمرو اس پر قبضہ کرلے  مثلاً: اگر آج  فی ڈالر کی قیمت ایک سو گیارہ روپے ہے جس کے حساب سے تقریبا  نوسو ڈالر بنتے ہیں ، لیکن زید اس کی قیمت  سو روپے لگادے جس کے حساب سے ایک لاکھ کے ہزار ڈالر بنتے ہیں، تو یہ  معاملہ جائز ہوگا، کیو نکہ ہر ملک کی کرنسی دوسرے ملک کی کرنسی سے مختلف الجنس ہوتی ہے اس لیے اس میں تفاضل اور نسیئہ دونوں جائز ہیں،البتہ مجلس ِعقد میں کسی ایک پر قبضہ ضروری ہے۔

 

الديون تقضى بأمثالها۔(ردالمحتار، كتاب الشركة، مطلب في قبول قوله دفعت المال، ج:6،ص:495)

قال وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء لعدم العلة المحرمة۔(الهداية، كتاب البيوع، باب الربا، ج:3، ص:83)

القرض لا يتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منها لا يبطله ولكنه يلغو شرط رد شيء آخر۔(الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، ج:7،ص:394)


فتویٰ نمبر : 2876/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں