بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

اجارہ پر زنا کرنے سے حد کاحکم


سوال

ایک صاحب فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے عورت کو کسی خاص رقم کےعوض زنا کے لیے تیار کیاکہ تمہیں اتنے پیسے دوں گا مجھے زنا کرنے دو پھر اجرت دے اس نے زنا  کیا تو اس صورت میں امام ابوحنیفہ ؒ کے ہاں حد ِزنا واجب  نہیں ہوتی ۔اب سوال یہ ہے کہ یہ قول امام ؒ سے ثابت ہے یا نہیں؟نیزا گر یہ قول ان سے ثابت ہے تو پھر بھی یہ  بظاہر زنا کی حوصلہ افزائی ہے۔

جواب

              واضح رہے کہ اگر کوئی شخص  کسی اجنبی عورت   کوزنا کے لیے  اجرت کے بدلے یعنی پیسوں کے عوض حاصل کر کے اس سے زنا کرے تو اس فعل  کی قباحت ،گناہ ِکبیرہ ہونا   اور مرتکب کو سزا دینے میں کسی کا اختلاف نہیں ۔البتہ ایسے  شخص پر حد جاری ہو نے کےمتعلق کتب ِفقہ مثلاً"الاصل للامام محمد الشیبانی ج7ص151 ،المبسوط للسرخسی ج9ص97وغیرہ میں امام ابوحنیفہ  ؒ سے سقوط ِ حد کا  قول مذکور ہے لیکن آپ ؒکے قول کا  یہ مطلب ہر گز  نہیں کہ ان کو بدکاری کی  چھٹی  دی جائے گی  اور اس پر کوئی سزا   نہ دی جائے گی کیونکہ حد اگر  شبہ کی بنا پر ساقط ہو  جائے  توبھی  تعزیر  باقی  ہے ۔تعزیر کی سزا  قید سے بھی دی جا سکتی ہے ،کوڑوں سے بھی  اور بعض حالات میں قتل سے بھی  (جیسا حکومت ِوقت مناسب سمجھے)،نیز تعزیر کے کوڑے زنا کی حد  کے کوڑوں سے  زیادہ سختی سے لگائے جاتے ہیں پس   امام صاحب ؒ کی طرف منسوب قول سے یہ مطلب لینا کہ اس فعل ِبد میں کوئی گناہ نہیں یا کوئی سزا نہیں یا یہ  بد کاری جائز ہے،یہ غلط فہمی پر مبنی ہے۔نیز امام ابو یوسف ؒ اور امام محمد ؒاس  مسئلہ میں وجوب ِحد کے قائل ہیں اورعلامہ ابن ہمام ؒ نے "فتح القدیر"اور علامہ حصکفی ؒ نے "الدر المختار"میں صاحبین ؒ کے قول کو  راجح قرار دیا ہے  لہذا حنفیہؒ کےراجح قول کے مطابق ایسے شخص پر حد زنا واجب ہو گی ۔

 

قلت: أرأيت الرجل يستأجر المرأة ليزني بها فيشهدعليه بذلك الشهود، هل يحد واحد منهما؟ قال: لا۔۔۔ وقال أبو يوسف ومحمد: أما نحن فنقيم عليه الحد في مسألة الإجارة خاصة.(الأصل للشيباني،کتاب الحدود،ج7ص151)

( وبالزنا بمستأجرة ) أي لا يجب الحد بوطء من استأجرها ليزني بها عند أبي حنيفة وقالا يجب الحد لعدم شبهة الملك ولهذا لا يثبت النسب ولا تجب العدة  وله أن الله تعالى سمى المهر أجرة بقوله تعالى { فما استمتعتم به منهن فآتوهن أجورهن } النساء 24 فصار شبهة لأن الشبهة ما يشبه الحقيقة لا الحقيقة۔(البحر الرائق،کتاب الحدود،ج5ص30)

ومن شبهة العقد ما إذا استأجرها ليزنى بها ففعل لاحد عليه ويعزر وقال هما والشافعي ومالك وأحمد يحد لأن عقد الإجارة لا يستابح به البضع فصار كما لواستأجرها للطبخ ونحوه من الأعمال ثم زنى بها فإنه يحد إتفاقا وله أن المستوفي بالزنا المنفعة وهي المعقود عليه في الإجارة لكنه في حكم العين فبالنظر إلى الحقيقة تكون محلا لعقد الإجارة فأورث شبهة ۔۔۔والحق في هذا كله وجوب الحد إذ المذكور معنى يعارضه كتاب الله قال الله تعالى { الزانية والزاني فاجلدوا } فالمعنى الذي يفيد أن فعل الزنا مع قوله أزنى بك لا يجلد معه للفظة المهر معارض له۔(فتح القدير،کتاب الحدود،باب الوطئ الذی  یوجب الحد والذی لا یوجبہ،ج5ص42)

( ولا ) حد ( بالزنا بالمستأجرة له ) أي للزنا والحق وجوب الحد كالمستأجرة للخدمة۔۔۔وقال ابن عابدين :قوله(والحق وجوب الحد) أي كما هو قولهما وهذا بحث لصاحب الفتح وسكت عليه في النهر والمتون والشروح على قول الإمام۔ ( رد المحتارمع الدر المختار۔كتاب الحدود،باب الوطئ الذى يوجب الحد والذي لا يوجبه،ج6ص43)


فتویٰ نمبر : 4747/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں