بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

استعمال کی وجہ سےقیمت فروخت سے کم پر اقالہ کرنا


سوال

آج کل عام طور پر مارکیٹ میں ایک خریدار مثلا زید بکر سے ایک رکشہ دو سال کی قسطوں پر خریدتا ہے، ماہانہ قسط دس ہزار، کل قیمت دو لاکھ تیس ہزار، جس میں تیس ہزار نقد،جب کہ باقی قسطوں کی صورت میں دینا ہے۔ اب زید تین ماہ رکشہ چلانے کے بعد دوبارہ بکر کے پاس آتا کر کہتا ہے کہ یہ رکشہ واپس لے لو، بکر رکشہ واپس کرنے کی صورت میں کچھ رقم مارکیٹ ویلیو کے حساب سے کاٹ کر   باقی رقم واپس کرتا ہےمثلا  اگر زید نے تیس ہزار دئیے ہے اور مارکیٹ ویلیو کے حساب سے قیمت میں نقصان دس ہزار آیا ہے تو دس ہزار کاٹ کر باقی بیس ہزار واپس کر دیتا ہے ، اور اگر نقصان تیس ہزار آیا ہے تو تیس ہزار کاٹتا ہےاور رکشہ زید سے واپس لے لیتا ہے، اب سوال یہ ہےکہ کیا رکشہ واپس لینے کی صورت میں  بکر کےلیے قیمت میں نقصان کے بقدر کٹوتی جائز ہےیا نہیں؟

جواب

             بائع اور مشتری جب ایجاب اور قبول  کرلیں توبیع تام ہو جاتی ہے ، تاہم اگر بائع اور مشتری باہمی رضامندی کے ساتھ بیع ختم کرنا چاہیں تو ختم کر سکتے ہیں، فقہائے کرام کی اصطلاح میں اس کو اقالہ کہتے ہیں،اور اقالہ میں یہ ضروری ہے کہ اقالہ ثمن اول پر ہو، لیکن اگر مبیع میں کوئی ایسا عیب پیدا ہو جائےجس کی وجہ سے مبیع کی قیمت میں کمی آجائے تو پھر بائع کے لیے اصل قیمت سے نقصان کے بقدر رقم کاٹ لینا جا ئز ہے۔

           صورت مسٔولہ میں اگر خریدار (زید) تین ماہ رکشہ استعمال کرکے واپس کرنا چاہے تو چونکہ عموما استعمال کی وجہ سے رکشہ کی قیمت کم ہو جاتی ہے اس لئے بائع (بکر) کے لیے شرعا جائز ہے کہ قیمت کے نقصان کے حساب سے مشتری سے رقم کاٹ لے ۔

 

الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول۔۔۔فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل۔(الهداية، كتاب البيوع، باب الاقالة، ج:3، ص:72)

وكذا إذا شرط الأقل لما بيناه إلا أن يحدث في المبيع عيب فحينئذ جازت الإقالة بالأقل؛ لأن الحط يجعل بإزاء ما فات بالعيب۔(الهداية، كتاب البيوع، باب الاقالة، ج:3، ص:72)

كل ما أوجب نقصان الثمن في عادة التجار فهو عيب"؛ لأن التضرر بنقصان المالية، وذلك بانتقاص القيمة والمرجع في معرفته عرف أهله۔(الهداية، كتاب البيوع، باب خيار الغيب، ج:3، ص:42)


فتویٰ نمبر : 2874/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں