بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
بچوں یابڑوں کے کپڑوں پر ناقص تصویر بنانا
سوال
گھر میں جو عورتیں سلائی کھڑائی کرتی ہیں اس میں پرندوں کی تصویر کپڑوں پربنانا یاگڑیا کی تصویر بنانا کہ گڑیا کا چہرہ نہ ہویعنی آنکھیں منہ وغیرہ نہ ہوتو کیا اس طرح بچوں یا بڑوں کے کپڑوں پر بنانا ٹھیک ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جاندار اشیا کی تصویر بنانے اور رکھنے کی شریعت میں سخت مما نعت آئی ہے، لہذا جاندار اشیا کی تصویر قلم سے کسی کاغذ وغیرہ پر بنائی جائے ، یا سلائی کے ذریعے کسی کپڑے پر، یا کاغذ پربنائی جائے، بہر صورت ناجائز ہے، البتہ اگرجانداراشیا کی تصویراس طرح بنائی گئی ہوکہ اس کا سرنہ ہو یا مکمل چہرہ ظاہر نہ ہو ، تو ایسی تصویر بنانےاور پاس رکھنے کی گنجائش ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص جاندار اشیا کی ایسی تصویر بچوں یا بڑوں کے کپڑوں پر بنائے کہ جس کا سر نہ ہو یا مکمل چہرہ ظاہر نہ ہو تو ایسی تصویر بنانے اور رکھنے کی گنجائش ہے۔
عن أبي هريرة قال : الصورة الرأس فكل شيء ليس له رأس فليس بصورة۔(شرح معاني الأثار، كتاب الكراهة، باب الصور تكون في الثياب،رقم ال حديث:6442)
( و ) لا يكره ( لو كانت تحت قدميه ) ۔۔۔( أو كانت صغيرة ) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما وهي على الأرض ذكره الحلبي ( أو مقطوعة الرأس أو الوجه ) أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه۔(الدرالمختار علی صدر ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج:2، ص:418)
قوله ( أو مقطوع الرأس ) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق لها أثر أو يطليه بمغرة ونحوها أو بنحته أوبغسله وإنما لم يكره لأنه لا تعبد بدون الرأس عادة۔(البحرالرائق، كتاب الصلاة، باب ما يفسدالصلاة وما يكره فيها، ج:2، ص:50)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں