بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
دفتر میں غیر محرم عورتوں سے بات چیت کرنا
سوال
میں ایک دفتر میں ملازم ہوں ، ہمارے ساتھ دفتر میں عورتیں بھی کام کرتی ہیں، کیا ہمارے لئے ان سے سلام کلام کرنا درست ہے؟
جواب
واضح رہے کہ مرد کے لئے بلا ضرورت غیر محرم عورتوں سے بات کرنا جائز نہیں ، اسی طرح مرد کے لئے نا محرم عورتوں کو سلام کرنا پسندیدہ عمل نہیں ہے، خاص کر جب ان میں سے کوئی ایک یا دونوں جوان ہوں، اور اگر نا محرم عورت نے خود سلام کر لیا تو مرد دل ہی میں اس کا جواب دیدے، ہاں اگر نا محرم عورت ضعیف العمر ہو، تو بلند آواز کے ساتھ سلام کا جواب دیا جا سکتا ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق کسی بھی غیر محرم کے ساتھ بلا ضرورت سلام و کلام کرنا درست نہیں ہے، تاہم اگر دفتری امور کے بارے میں ضروری بات چیت ہو، تو اس کی گنجائش ہے، لیکن بات کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے سے فتنے کا اندیشہ ہے، اس لئے دیکھے بغیر بات کی جائے، اسی طرح حتی الوسع بلا ضرورت گفتگو سے پرہیز کیا جائے، جہاں کہیں بے تکلفی کا خطرہ ہو تو اس محفل سے کنارہ کشی اختیار کر لینا چاہئے، اور بے جا اختلاط ، گفتگو، اور خلوت سے حد درجہ اجتناب کرنا لازم ہے۔
وإذا سلمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزا رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابة رد عليها في نفسه، والرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس كذا في فتاوى قاضي خان.( الفتاوی الہندیۃ ، کتاب الکراہیۃ ، الباب السابع فی السلام وتشمیت العاطس، ج: 5، ص378)
إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها؛ لأن ذلك ليس بصحيح فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك۔( منحۃ الخالق علی ہامش بحرالرائق، کتاب الصلوۃ، باب شروط الصلوۃ، ج:1، ص: 471)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں