بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

نماز میں قومہ یا جلسہ نہ کرنے کا حکم


سوال

 نماز کے اندر قومہ اور جلسہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ا(1)گر کوئی شخص نماز میں قومہ یا جلسہ مکمل طور پر ادا نہیں کرتاجان بوجھ کر یا بھول کر یا مسئلہ سے ناواقفیت کی بنا پر  اور سجدہ سہو بھی نہیں کرتا توایسے شخص کی نماز ادا ہوگی یا نہیں؟ (2)اور اب تک جو نمازیں اس طرح پڑھی ہیں ان کا کیا حکم ہے؟(3)اور اگر کوئی شخص قومہ اور جلسہ کرے لیکن اس میں تعدیل نہ کرے تو اس کی نماز ادا ہو گی یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ نماز میں قومہ اور جلسہ واجب اوراس میں تعدیل سنت ہے۔صورت مسئولہ کے مطابق (1) اگر کوئی شخص  نماز میں جان بوجھ کر قومہ یا جلسہ مکمل طور پر ادا نہ کرے توسجدہ سہو سےاس کاجبیرہ نہیں ہوسکتا لہذا نماز کے وقت گزرنے سے پہلے پہلے اس پر نماز کا اعادہ ضروری ہےجب کہ وقت گزرنے کے بعد اعادہ نہیں البتہ گناہ گارہوگا، اور اگر بھول کر یا مسئلہ سے ناواقفیت کی بنا پر قومہ یا جلسہ ادا نہ کرے تو سجدہ سہو کرے گااگرسجدہ سہو بھی ادا نہ کرے تو وقت گزرنے سے پہلے پہلے اس پر نماز کا اعادہ ضروری ہےجب کہ وقت گزرنے کے بعد اعادہ نہیں البتہ گناہ گار ہوگا،(2) اور جو نمازیں اب تک اس طرح پڑھی ہیں  وہ اگرچہ ادا متصور ہوں گی لیکن ایسا شخص گناہ گار ہو گا(3)اوراگرکوئی شخص قومہ اور جلسہ  کرے  لیکن اس ميں تعدیل نہ کرے تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں اوراس کی نماز ادا ہوگی لیکن ایسا شخص گناہ گار ہوگا۔

 

عن أبي مسعود الأنصاري البدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم "لاتجزئ صلاة لا يقيم فيها الرجل يعني صلبه في الركوع والسجود"(جامع الترمذی، ابواب الصلاۃ، باب ماجاء فیمن لایقیم صلبہ، رقم الحدیث:256)

( وتعديل الأركان ) أي تسكين الجوارح قدر تسبيحة في الركوع والسجود وكذا في الرفع منهما على ما اختاره الكمال۔(الدرالمختار علی صدرردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ،ج:2، ص:157)

المصلي إذا ركع ولم يرفع رأسه من الركوع حتى خر ساجدا ساهيا تجوز صلاته في قول أبي حنيفة ومحمد وعليه السهو ا هـ وفي المحيط لو ترك تعديل الأركان أو القومة التي بين الركوع والسجود ساهيا لزمه سجود السهو ا هـ  فيكون حكم الجلسة بين السجدتين كذلك لأن الكلام فيهما واحد والقول بوجوب الكل هو مختار المحقق ابن الهمام۔(البحرالرائق، کتاب الصلوۃ، باب صفۃ الصلوۃ، ج:1، ص:524)

ولو ترك القومة ساهيا بأن انحط من الركوع ساجدا ففي فتاوى قاضيخان أن عليه السجود عند أبي حنيفة ومحمد وهو يقتضي وجوبها عندهما۔(فتح القدیر، کتاب الصلوۃ، باب سجود السہوا، ج:1، ص:438)

قوله ( وإعادتها بتركه عمدا ) أي ما دام الوقت باقيا وكذا في السهو ان لم يسجد له وإن لم يعدها حتى خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم ويكون فاسقا آثما۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقي الفلاح، كتاب الصلوة، فصل فى بيان واجبات الصلوة، ص:200)

قوله ( وإليه ذهب المحقق الخ ) واختار الكرخي ان التعديل في القومة والجلسة سنة على قولهما وفرق بينه وبين تعديل الأركان بأنه في الأركان لتكميل الفرض وفي القومة والجلسة لتكميل الواجب ومكمل الفرض واجب ومكمل الواجب سنة إظهارا للتفاوت بينهما وهو المشهور وقال الجرجاني ان التعديل عندهما مطلقا سنة۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقي الفلاح، كتاب الصلوة، فصل فى بيان واجبات الصلوة، ص:202)


فتویٰ نمبر : 8890/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں