بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

مشت زنی کا حکم


سوال

نوجوان کے لئے مشت زنی جائز ہے یا مکروہ؟ حالانکہ قرآن کریم نے اشاروں میں منع کیا ہے، توپھر  امام ا حمد بن حنبل ؒ نے کیوں جائز قرار دیا ہے؟

جواب

              واضح رہے  کہ مشت زنی اللہ تعالی کی عطا کردہ قوت کو غیر فطری طریقے سے استعمال  کرنے کی وجہ سے ظلم کے مترادف ہے، اس لئے اسے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

            صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص جنسی تسکین حاصل کرنے کی خاطر  مشت زنی کرتا ہے، تو اس کے لئے اس فعل کا ارتکاب مکروہ تحریمی ہے، تاہم اگر کوئی شخص شہوت سے اتنا مغلوب ہوجائے کہ مشت زنی  کے بغیر زنا میں پڑنے کا قوی اندیشہ ہو، تو زنا چونکہ اس سے بڑا جرم  اور گناہ ہے،  اس لئے زنا سے بچنے کی خاطر ایسے وقت میں مشت زنی کرنے والے کے متعلق امید کی جاسکتی ہے کہ اس کا مواخذہ نہ ہو۔

جہاں تک امام احمد بن حنبلؒ کا قول ہے تو وہ بھی مطلقاً نہیں ، بلکہ اس صورت میں ہے جب زنا میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو، اور یہی قول صحابہ کرام اور دیگر  ائمہ احناف  سے بھی منقول ہے۔

 

قال القرطبيؒ تحت قوله تعالى:{أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ} هذا يقتضي تحريم الزنى وما قلناه من الاستمناء۔(الجامع لاحكام القرآن :المؤمنون:6 ، ج:6،ص106 )

عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَمَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: إِنِّي أَعْبَثُ بِذَكَرِي حَتَّى أُنْزِلَ؟ قَالَ: «إِنَّ نِكَاحَ الْأَمَةِ خَيْرٌ مِنْهُ، وَهُوَ خَيْرٌ مِنَ الزِّنَا» ( مصنف عبد الرزاق ، کتاب النکاح،  باب الاستمناء ، ج: 7 ، ص: 391)

 الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث ناكح اليد ملعون ولو خاف الزنا يرجى أن لا وبال عليه۔ وقال ابن عابدین تحتہ ويجوز أن يستمني زوجته وخادمته  وسيذكر الشارح في الحدود عن الجوهرة أنه يكره ولعل المراد به كراهة التنزيه(رد المحتار مع الدر المختار،كتاب الصوم: ج 3ص371)

ويحرم الاستمناء باليد؛ لأنها مباشرة تفضي إلى قطع النسل، فحرمت كاللواط، ولا حد فيه؛ لأنه لا إيلاج فيه، فإن خشي الزنا، أبيح له؛ لأنه يروى عن جماعة من الصحابة - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ( الكافي في فقه ابن حنبل لابن قدامه، باب حد الزنا ، ص:867)

( ومن استمنى من رجل أو امرأة لغير حاجة حرم ) فعله ذلك ( وعزر ) عليه لأنه معصية ( وإن فعله خوفا من الزنا ) أو اللواط ( فلا شيء عليه ) كما لو فعله خوفا على بدنه بل أولى ( فلا يباح ) الاستمناء لرجل بيده ( إلا إذا لم يقدر على نكاح ولو لأمة ) لأنه مع القدرة على ذلك لا ضرورة إليه وقياسه المرأة فلا يباح لها إلا إذا لم يرغب أحد في نكاحها (شرح منتهى الإرادات، باب التعزیر، ج:11، ص:205)


فتویٰ نمبر : 4763/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں