بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

محمد نبی نا م رکھنا


سوال

محمد نبی نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

                شرعی نقطہ نظر سے ایسا اچھا اور با معنی نام رکھنا نہایت  اہم اور ضروری ہے جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا ہو یا نبی کریم ﷺ نے ذکر فرمایا ہو ،یا وہ مسلمانوں میں رائج ہو، اس کے علاوہ جو نام ایسا ہو کہ حضورﷺ یا  حضرات  صحابہ رضی اللہ عنہم یا علماوصلحائے امت نے اسے استعمال نہ کیا ہو  اور نہ ہی کسی اچھے معنی اور مفہوم والا  ہو تو اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

             صورت مسئولہ  میں نبی   نبوۃ سے مشتق ہے اس کا لغوی معنی ہے" بلند مرتبہ" اوراصطلاح میں نبی بمعنی رسول اورپیغمبر کے ہے۔نبی نام رکھنا لغوی اعتبار سے اگرچہ درست ہے لیکن اصطلاح میں اس سے ذہن اصطلاحی نبی کی طرف جاتا ہےاور عام طور پرلوگ پهر پكارنے ميں صرف نبى لفظ استعمال كرتے ہیں جس سے شبہ پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے البتہ پورا نام" محمد نبی " لینے میں شبہ پیدا نہیں ہوتا اس لیے پورا نام لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ تا ہم بہتر یہ ہے کہ ایسا نام رکھنے سے احتراز کیا جائے۔

 

وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط.( الفتاوی الہندیۃ ، کتاب الکراھیۃ ، الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الاولاد، ج: 5 ص:362)

(نبأ) الشىء۔ نبئا،ونبوءا: ارتفع وظهر ۔و  من أرض إلى أرض أخرى : خرج منها إليها ۔و۔على القوم: طلع عليهم وهجم ۔ ويقال :نبأ نبئا،ونبأة؛صات صوتاخفيفا۔ونبأالرجل نبئا:أخبر(المعجم البسيط،باب النون،ص:896)

النبي من النبوةوالنباوة،وهي الارتفاع من الأرض، لارتفاع قدره ولانه شرف على سائر الخلق،فأصله غير الهمز، وهو فعيل بمعنى مفعول،وتصغيرنبي،والجمع أنبياء۔(لسان العرب،ماده نون،ج:14،،ص:30)


فتویٰ نمبر : 4769/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں