بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ترکہ کا قرض سے کم پڑ جانا


سوال

ایک شخص کسی حادثہ میں فوت ہوا،اس کےذمےلوگوں کاقرض ہےجواس کےترکہ سےزائدہے،یعنی اس کاترکہ قرض خواہوں کےقرض سےکم ہے،کیااس کےورثامیں سےاس کےوالد،یابھائی،یابیوی میں سےکسی کےذمےترکہ سے زائدقرض کی ادائیگی شرعالازم ہے؟  

جواب

          شریعت مطہرہ کی روسےترکہ سےمیت کی تجہیزوتکفین کےبعداس کےذمےواجب الاداقرض کاچکاناضروری ہے،لیکن اگرترکہ واجب الاداقرض سےکم پڑجائےتواصول یہ ہےکہ ترکہ قرض خواہوں کےمابین تناسب کےاعتبارسے تقسیم ہوگا،بقیہ قرض کی ادائیگی ورثامیں سےکسی کےذمہ لازم نہیں۔

          صورت مسئولہ کےمطابق اگرکوئی شخص فوت ہوجائے،اور اس کاترکہ اس کےذمہ واجب الاداقرض سےکم ہوتوترکہ قرض خواہوں کےدرمیان مجموعی قرض اورمذکورہ ترکہ میں  موجود نسبت کےتناسب سےتقسیم ہوگا  ۔بقیہ قرض کی ادائیگی ورثامیں سےکسی کےذمےشرعالازم نہیں،البتہ ورثامیں سےکوئی اگرخوش دلی سےبقیہ قرض کی ادائیگی کردے تویہ  ادائیگی اس کی جانب سےتبرع اوراحسان شمارہوگی،جس سےمیت کاذمہ فارغ ہوجائےگا۔

         

تتعلق بترکة الميت حقوق أربعة مرتبة  يبدأ بتكفينه وتجهيزه بلاتبذيرولاتقتير ثم تقضى ديونه من جيع مابقي من ماله....فالباقي بعدتجهيزالميت إن وفى به فذلك، وإن لم يف، فإن كان الغريم واحدايعطاه الباقي ومابقي له على الميت إن شاء عفا وإن شاء تركه إلى دارالجزاءالخ(الشريفية شرح السراجية مع السراجي فى الميراث، ص:3-6)


فتویٰ نمبر : 4190/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں