بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کو مدرسہ بنات میں تبدیل کرنا


سوال

ایک واقف نے دو کنال زمین بنین کے مدرسے کے لیے وقف کر دی،اور متولین وقف نے  اس میں حسب ضرورت چھ مرلہ اراضی پر مسجد  بنوالی اور تقریبا  پانچ سال  سے طلبا ئےکرام اس میں با جماعت نماز ادا کر رہے ہیں  اب متولین وقف کا اردہ ہے کہ اس مدرسےکو بنات کے مدرسےمیں تبدیل کر لیں اور بنین کے لیے الگ مدرسے کا انتظام کریں ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مدرسے میں موجود مسجد کا کیا حکم ہوگا اہل محلہ تو اس کو استعمال   نہیں کر سکتے ہیں اور مدرسہ بنات کا  بن جانے کے بعد اس میں نماز باجماعت موقوف ہو جائیگی  تو کیا یہ جائز ہوگا؟

جواب

             واضح رہے کہ جب زمین کا کوئی حصہ باقاعدہ طور پر مسجد کی نیت  سے نمازیوں کے لیے خاص کیا جائے اور اس میں اذان واقامت کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی جائے تو اس حصہ زمین کا حکم مسجد شرعی کا ہوگا۔

صورت مسئولہ  کےمطابق  جب  متولین  نے مدرسے  کے چھ مرلہ کی اراضی کو   مسجد  قرار دینے کی نیت سے خاص کیا اور اس میں اذان اور اقامت کر کے با جماعت نماز پڑھی گئی اور لوگوں کو بھی نماز پڑھنے کی اجازت  دی گئی تو اب مدرسے کا یہ حصہ مسجد شمار ہوگا اور یہ مسجد شرعی کے حکم میں ہو گا۔لہذا اس  مسجد کےحدود کو بنات کے مدرسے سے تبدیل کرنا جائز نہیں

 

(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والامام (الصلاة فيه)بجماعة۔(الدر المختار على صدرردالمحتار،كتاب الوقف،ج:6،ص:544)

(ولو خرب ما حوله واستغنى عنه يبقى مسجدا عند الامام، والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتى) حاوي القدسي۔(الدرالمختار على صدر ردالمحتار،كتاب الوقف،ج:6،ص:548)

(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يعار ولا يرهن) (قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الوقف،ج:6،ص:531)ُ


فتویٰ نمبر : 4736/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں