بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

کمیشن کی ایک صورت


سوال

 ایک شخص لکڑیاں خریدنا چاہتا ہے، لیکن اس کو جگہ وغیرہ کا پتہ نہیں، دوسرا شخص آکر اس سے کہتا ہے کہ میں تمہیں ایک لکڑی  کے کاروبار کرنے والے کا پتہ اور نمبر دیتا ہوں، جس کے پاس تقریباً  250فٹ لکڑی موجود ہوگی، لیکن تم مجھے فی فٹ کے حساب سے ۲۰ روپے دوگے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ معاملے میں دوسرے شخص کے لئے  فی فٹ 20روپے لینا درست ہے یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ بائع اور مشتری کے درمیان دلالی کے عوض کمیشن لینے میں شرعاً  کوئی قباحت نہیں ہے، بشرطیکہ اجرت متعین ہو، یا ثمن کی نسبت کے ساتھ اجرت کی شرح واضح ہو۔

           صورت مسئولہ کے  مطابق اس دوسرے شخص کا مشتری کو بائع کے بارے میں معلومات دینا ایک قسم کی دلالی ہے، اور اس پر ایک خاص شرح سے اجرت بھی متعین ہے، لہذا اس دلال  کے لئے یہ اجرت لینا جائز ہے۔

 

وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام۔ ( رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الاجارۃ ، باب ضمان الاجیر، ج:9 ص: 87)

(قوله: هو الدال على مكان السلعة وصاحبها) لا فرق لغة بين السمسار والدلال، وقد فسرهما في القاموس بالمتوسط بين البائع والمشتري۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب البیوع ، باب المرابحۃ والتولیۃ، ج:7 ، ص: 453)


فتویٰ نمبر : 2872/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں