بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چارپریزہ کی ایک مسجد میں نماز جمعہ


سوال

چارپریزہ میں ایک مسجد ہے جس کا نام مسجد ابوبکر رضی اللہ عنہ  ہے جو لوگ  پانچ وقتہ نماز اس مسجد میں   پڑھتے ہیں ان کی خواہش ہے کہ اس مسجد میں جمعۃالمبارک کی نماز شروع کی جائے اور چار پریزہ کی کل آبادی ووٹ  کے لحاظ سے اڑتیس سو (3800) ہے ۔تو کیا مسجد ابو بکر رضی اللہ عنہ  میں نماز جمعہ  شروع کر سکتے ہیں؟

جواب

       نماز جمعہ کے وجوب ادا کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ  وہ جگہ شہر ہو یا توابع شہر میں سے ہو یا بڑا گاؤں ہو ۔شہر  کی تعریف فقہائے کرام نے اپنے اپنے وقت كے   حالات کے مطابق مختلف عبارات سے کی ہے ۔ موجودہ دور میں جس گاؤں کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور روز مرہ کی ضروریات اس میں میسر ہوں وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا ۔  

       صورت مسئولہ کے مطابق  اگرمذکورہ علاقہ  کی آبادی  اڑتیس سو (3800) ہو اور اس میں ضروریات زندگی بھی میسر ہوں تو  اس مسجد میں نماز جمعہ شروع کرنا جائز ہے۔

 

(ويشترط لصحتها)سبعة أشياء الأول(المصر...(أوفناؤه)بكسرالفاء(وهوما)حوله(إتصل به)أولا(لأجل مصالحه)كدفن الموتى وركض الخيل ۔۔۔( الدر المختار ، کتاب الصلوة ، باب الجمعة ، ج :1، ص: 109)

 العادة محكمة  يعني أن العادة عامة كانت أو خاصة تجعل حكما لإثبات حكم شرعي ۔ ۔ ۔ والعرف والعادة إنما تجعل حكما لإثبات الحكم الشرعي إذا لم يرد نص في ذلك الحكم المراد إثباته۔( دررالحكام،المادة :36،ج:1،ص:40)

وعبارة القهستاني: تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق۔(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الجمعة،ج:3 ص6:، دار الكتب العلمية بيروت لبنان)


فتویٰ نمبر : 8882/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں