بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نماز جنازہ پڑھانے کا حق


سوال

نماز جنازہ پڑھانا کس کا حق ہے ؟ وارث کا یا محلے کے امام کا یا نماز جنازہ میں موجود کسی بڑے عالم کا؟ اگر میت کرے کہ میرا نماز جنازہ فلان شخص پڑھائے تو اس وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے یا نہیں؟نیز میت زندگی میں جس شخص کے پیچھے نماز پڑھنے پر خوش تھا کیا اس کا اعتبار کرکے اس میت کے نما زجنازہ میں اس امام کو مقدم کیا جائے گا؟

جواب

              واضح رہے کہ اگر کسی شخص کی نماز جنازہ میں اس کا ولی،  محلے کا امام اور کوئی بڑا عالم موجود ہو ، تو نماز جنازہ پڑھانے کا حق سب سے پہلے ولی کو حاصل ہے اگر ولی موجود نہ ہو تو پھر محلے کے امام کو مقدم کیا جائے گا یا ولی تو موجود ہو لیکن محلے کا امام صالح اور دیندار ہو اور ولی سے افضل ہو تو پھر ولی کو چاہئے کہ محلے کے امام سے نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کرے،لیکن اگر ولی محلے کے امام کے علاوہ جنازہ میں کسی دوسرے عالم کو مقدم کرے تو بھی جائز ہے کیونکہ نماز جنازہ پڑھانے کا حق ولی کا ہے وہ جس کو اجازت دینا چاہے دے سکتا ہے، نیز اگر میت کسی شخص کے بارے میں وصیت کرے کہ میرا جنازہ فلاں شخص پڑھائے ، تو فقہائے کرام کے نزدیک یہ وصیت باطل ہے اور یہ حق بدستور ولی کے پاس ہوگا ، چاہے وہ خود نماز جنازہ پڑھائے یہ کسی دوسرے کو مقدم کرے ، تاہم فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہےکہ اس صورت میں محلے کے امام کو مقدم کرنا افضل ہے کیونکہ میت  زندگی میں اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنے پر خوش تھا لہذا اس کو مقدم کرنا نماز جنازہ میں بھی مستحب ہوگا، لیکن اگر میت زندگی میں محلے کے امام سے کسی صحیح وجہ کے بنا پر ناراض تھااور  اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناپسند کرتا تھا تو پھر ایسے امام کو اس میت کے نماز جنازہ کے لیے مقدم کرنا خلاف اولی ہے۔

 

"تقديم الولاة واجب، وتقديم إمام الحي مندوب فقط بشرط أن يكون أفضل من الولي، وإلا فالولي أولى" (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج:3، ص: 120)

"(وله أن يأذن لغيره) أي للولي أن يأذن لغيره في الصلاة على الجنازة؛ لأن التقدم حقه فيملك إبطاله بتقديم غيره" (تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق، كتاب الصلاة، باب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلاته،ج:1، ص:573)

"قوله: "ثم إمام الحي" المراد به إمام مسجد محلته لكن بشرط أن يكون أفضل من الولي وإلا فالولي أولى منه كما في النهر وفي الشرح والصلاة في الأصل حق الأولياء لقربهم إلا أن الإمام والسلطان يقدمان لعارض الإمامة العظمى والسلطنة فإن في التقدم عليهما ازدراء وفساد أمر المسلمين فيتحاشى عن ذلك الفساد فيجب تقديم من له حكم عام وأما إمام الحي فيستحب تقديمه على طريق الأفضلية وليس بواجب كما في المستصفى" (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، باب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلاته، ص:485)

"وفي الكبرى الميت إذا أوصى بأن يصلي عليه فلان فالوصية باطلة وعليه الفتوى، كذا في المضمرات" (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس الصلاة على الميت، ج:1، ص: 224)

"(قوله ثم إمام الحي) أي الطائفة وهو إمام المسجد الخاص بالمحلة، وإنما كان أولى لأن الميت رضي بالصلاة خلفه في حال حياته، فينبغي أن يصلي عليه بعد وفاته. قال في شرح المنية: فعلى هذا لو علم أنه كان غير راض به حال حياته ينبغي أن لا يستحب تقديمه. اهـ. قلت: هذا مسلم إن كان عدم رضاه به لوجه صحيح، وإلا فلا تأمل" (رد المحتار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج:3، ص: 120)


فتویٰ نمبر : 8884/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں