بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رمضان میں مشت زنی کے بعدکھانے سے کفارہ کا حکم


سوال

ايک شخص نے  رمضان المبارك ميں روزے كی حالت میں استمناء بالید کیا اور وہ یہ سمجھ کر کھایا پیا  کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا ہےتو کیا قضا کے ساتھ اس پر کفارہ لازم ہوگا؟  

جواب

              واضح رہےكہ استمناءبالید(مشت زنی) ایک ناجائزعمل ہے رمضان میں روزے کی حالت میں اس کی قباحت اور زیادہ ہو جاتی ہے۔اگر روزہ دار  رمضان میں  مشت زنی کرے یعنی ہاتھ کے ذریعے منی کا اخراج کرے تو اس سےاس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے  اور روزے کی قضا لازم  ہوجاتی ہےالبتہ کفارہ  واجب نہیں ہوتا۔اگرپھر مشت زنی کے بعد کچھ کھائے تو اس کھانے کی وجہ سے  بھی اس شخص پر کفارہ لازم نہ ہو گا کیونکہ رمضان کا روزہ تو  پہلے ہی ختم  ہو چکا ہے۔

 

قوله: (وكذا الاستمناء بالكف) أي في كونه لا يفسد لكن هذا إذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء كما سيصرح به وهو المختار(ردالمحتار،كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،مطلب فی حکم الاستمناء بالکف،ج:3،ص:371)

واحترز به عما لو فعل ما يظن الفطر به كما لو أكل أو جامع ناسيا أو احتلم أو أنزل بنظر أو ذرعه القيء فظن أنه أفطر فأكل عمدا فلا كفارة للشبهة كما مر (قوله: بلا إنزال) أما لو أنزل فلا كفارة عليه بأكله عمدا؛ لأنه أكل وهو مفطر(رد المحتار،كتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم وما لايفسده،مطلب فی جوازالإفطار بالتحرى،ج:3 ،ص:388)


فتویٰ نمبر : 8889/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں