بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

خواتین کابھیک مانگنے کے لیے گھروں سے نکلنا


سوال

جو عورتیں گھروں سے نکل کر پیشہ ورانہ طور پر خیرات وغیرہ مانگتی ہیں،ان کا گھروں سے نکلنا شرعاً کیسا ہے ؟نیز میں نے ایک صاحب سے سنا ہے کہ ان عورتوں کا حکم مردوں کی طرح ہوجاتا ہے۔تو کیا گھریلو عورتوں کے لیے ان سے پردہ کرنا لازم ہے؟

جواب

          واضح رہے کہ جس شخص  کے پاس  ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانپنے کے لیے کپڑا ہو اس کے لیے لوگوں سے بھیک اور خیرات مانگنا جائز نہیں،اسی طرح جو آدمی کمانے پر قادر ہو اس کے لیے بھی بھیک مانگنا جائز نہیں ۔البتہ اگر کسی آدمی پر فاقہ ہو یا واقعی کوئی سخت ضرورت درپیش ہو، جس کی وجہ سے وہ انتہائی مجبوری کی بنا پر سوال کرے تو ضرورت اور مجبوری کے پیشِ نظر اس کی گنجائش ہے ،تاہم لوگوں سے مانگنے کو عادت اور پیشہ بنانا کسی صورت میں جائز نہیں ۔حدیث شریف میں ہے کہ"جو اپنا مال بڑھانے کے لیے سوال کرتا ہے تو وہ جہنم کے انگارے جمع کررہاہے ، اب چاہے تو کم جمع کرے یا زیادہ "۔

             صورتِ مسئولہ کے مطابق عورتوں کا  گھروں سے نکل کر پیشہ ورانہ طور پر بھیک مانگنا شرعاً جائز نہیں ،کیونکہ اس میں ایک تو عورت کا بغیر ضرورت کے گھر سے باہر نکلنے کا گناہ ہے اوردوسرا یہ کہ بھیک مانگنے کو عادت اور پیشہ بنانا بھی کسی صورت جائز نہیں ۔

جہاں تک ان سے گھریلو خواتین کے پردے کا مسئلہ ہے،تو گھریلو خواتین کے لیے ان سے پردہ کرنا ضروری نہیں، نیز دیگر خواتین کی طرح ان پر بھی اجنبی مردوں سے پردہ کرنا لازم ہے اور اجنبی مردوں کے لیے ان کو دیکھنا اسی طرح ناجائز وحرام ہے جس طرح دیگر اجنبیات کو دیکھنا جائز نہیں، تاہم اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو نیک سیرت خواتین کو بدکردار عورت سے تعلق قائم کرنا، میل جول رکھنایا اس کے سامنے چہرہ کھولنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى﴾۔الأحزاب/33

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سأل الناس أموالهم تكثرا، فإنما يسأل جمرا فليستقل أو ليستكثر»۔(الصحيح لمسلم ،  كتاب الزكوة ، باب كراهة المسألة ، رقم الحديث :1041ج: 2 ص: 308)

(ولا) يحل أن (يسأل) من القوت (من له قوت يومه) بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحاله لإعانته على المحرم (الدرالمختار ، كتاب الزكوة ، باب المصرف ، ج: ص:233)

ولا تنبغي للمرأة الصالحة أن تنظر إليها المرأة الفاجرة لأنها تصفها عند الرجال، فلا تضع جلبابها ولا خمارها۔(ردالمحتار ، كتاب الحظر والإباحة ، ج: 9 ص: 534)


فتویٰ نمبر : 4757/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں