بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری


سوال

(1):پہلےزمانےمیں بچوں کوتعلیم دینےکاموجودہ سسٹم نہیں تھا،یعنی یہ پرائیوٹ اسکول میں داخلہ فیس،ماہانہ فیس اور اسکول تک گاڑی میں آنے جانےکاخرچہ وغیرہ۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ کیاوالدکےذمےمذکورہ تمام اخراجات پوراکرناشرعالازم ہےیانہیں؟

جواب

              واضح رہےکہ اولاد کی اچھی تربیت اورانہیں زیورتعلیم سےآراستہ کرناوالدین کےفرائض منصبی کاحصہ ہے،تاہم اولادکوزیورتعلیم سےآراستہ کرنےکےلیےپرائیوٹ اسکولوں میں پڑھانالازم نہیں بالخصوص جب کہ والد کی مالی حالت ان اخراجات کو برداشت کرنے کے قابل نہ ہوں،کیونکہ حصول علم کےلیےمتبادل ادارےبھی میسرہیں، چنانچہ متبادل بندوبست  سےبھی والد اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوسکتاہے،البتہ جووالدین بخوشی اپنی اولادکوایسےاداروں میں پڑھاناچاہیں،تو شرعاًاس میں کوئی حرج نہیں۔

 

قال اللہ تعالی:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ روي عن علي في قوله قوا أنفسكم وأهليكم قال علموا أنفسكم وأهليكم الخيروقال الحسن تعلمهم وتأمرهم وتنهاهم قال أبو بكر وهذا يدل على أن علينا تعليم أولادنا وأهلينا الدين والخير وما لا يستغنى عنه من الآداب وهو مثل قوله تعالى وأمر أهلك بالصلاة واصطبر عليها......عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ما نحل والد ولدا خيرا من أدب حسن.... عن عطاء عن ابن عباس قال قال النبي صلى الله عليه وسلم حق الولد على والده أن يحسن اسمه ويحسن أدبه.   ( أحكام القرآن للجصاص،،سورة التحريم:6، مطلب يجب عليناتعليم أولادناوأهلينا، ج:3، ص:466-467، سہیل اکیڈمی لاہور)


فتویٰ نمبر : 4742/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں