بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

خودکشی کرنےوالےکی نمازجنازہ پڑھنا


سوال

جوشخص خودكشی كاارتكاب كرلے،کیااس کی نمازجنازه پڑهناشرعاجائزہےیانہیں؟

 

جواب

            شرعی نقطۂ نظرسےہر انسان کی روح اورجسم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس امانت ہوتی ہے، جس میں خیانت کرنے کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ،اسی وجہ سے خودکشی کرنا (یعنی اپنے آپ کو خود ہی مارنا) حرام ہے اورخودکشی کرنےوالاحرام کامرتکب ہوتاہے،جس کی وجہ سے وہ گناہ گارہوگا،لیکن اہل السنۃ والجماعۃ کےنزدیک چونکہ مسلمان کسی حرام کےارتکاب سےدائرۂ اسلام سےخارج نہیں ہوتا،اس لیےاس کی نمازجنازہ پڑھی جائےگی ۔تاہم  علما اور پیشوا حضرات اگرلوگوں کو عبرت دلانےکےلیے نہ پڑھائیں تواس کی گنجائش ہے، اس لیےکہ حضورﷺنے خودکشی کرنےوالےکی نمازجنازہ سےانکارفرمایاتھا،جس سےمعلوم ہوتاہےکہ بااثرعلماکےلیےبطور زجرایسےشخص کی نمازجنازہ چھوڑنےکی گنجائش ہے۔

 

عن جابر بن سمرة، قال: «أتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل قتل نفسه بمشاقص، فلم يصل عليه»  (أخرجه مسلم، كتاب الجنائز، باب ترك الصلاة على القاتل نفسه، رقم الحديث:978، ج:2، ص:672، دارالحديث القاهرة)

(من قتل نفسه) ولو (عمدا يغسل ويصلى عليه) به يفتى وإن كان أعظم وزرا من قاتل غيره. (قوله به يفتى) لأنه فاسق غير ساع في الأرض بالفساد، وإن كان باغيا على نفسه كسائر فساق المسلمين زيلعي.     (الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنائز،مطلب :ھل یسقط فرض الکفایة بفعل الصبي، ج:3، ص:108، دارالکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 8885/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں