بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

عملیات کےذریعےمجرم کی تعیین


سوال

ایک لڑکی نےخودکشی کاارتکاب کیا(بندوق کےذریعےاپنےآپ کوقتل کیا)،اس کےگھروالوں نےتین اشخاص پردعوی کیاکہ تم نےہماری لڑکی پر تعویذکیاتھا،جس کی وجہ سےاس نےخودکشی کاارتکاب کیاہے،اوریہ بات ہم نےعاملوں اورتعویذ کرنےوالوں سےمعلوم کیاہے،انہوں نےہمیں تمہاراہی حوالہ دیاہےکہ تم نےاس پرتعویذکیاتھا،جس کی بناپرا س نےخودکشی کی ہے،اب وہ لڑکی والے ان تین اشخاص سےقسم کامطالبہ کررہےہیں توکیاشرعامذکورہ اشخاص پرقسم آسکتاہےیانہیں ؟اوران کےلیےقسم اٹھاناجائزہےیانہیں؟

جواب

   شرعی نقطۂ نظرسےکسی شخص کومجرم ثابت کرنےکےلیےمدعی علیہ کااقراریامدعی کاگواہ پیش کرناضروری ہے،اس کےعلاوہ دیگرذرائع سےجرم کااثبات شرعامعتبرنہیں ۔

          صورت مسئولہ کےمطابق جرم کےاثبات کےلیےکسی عامل،ساحر،کاہن یاجنات کاسہارالینااورپھراس کی بناپرکسی شخص کومجرم ٹھہراناشرعاجائزنہیں ،نیزحدیث مبارک میں اس عمل کوکفر قراردیاگیاہے،چنانچہ اس کےذریعےمجرم کااثبات معتبر نہیں،بلکہ اس عمل سےتوبہ تائب ہوناضروری ہے،لہذالڑکی کےاولیاکاعاملوں کی خبرکی بناپرکسی سےقسم کامطالبہ کرناشرعادرست نہیں ۔

 

عن أبي هريرة، رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من أتى عرافا أو كاهنا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد "(السنن الكبرى للبيهقي،کتاب القسامة،جماع ابواب الحکم فی الساحر، باب تكفيرالساحروقتله، رقم الحديث:16964، ج:ج12ص240)


فتویٰ نمبر : 4735/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں