بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

مطلقہ عورت اور اولاد کے نفقہ کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے ،طلاق دینے کے بعد تقریباً تین سال گزرگئے ہیں ،عورت کے ساتھ اس کے بچے (دو بیٹیاں) بھی ہیں ۔اب یہ عورت اس شخص سےاپنے اور بچوں کے اخراجات کا مطالبہ کرتی ہے، جبکہ اس نےدوسرے شخص سے شادی بھی کی ہے، تو کیا اس پر عورت اور بچوں دونوں کے اخراجات لازم ہیں یا صرف بچوں کے اخراجات لازم ہیں ؟

جواب

          شرعی نقطہ نظر سے والد پر بیٹوں کا نفقہ ان کے بالغ ہونے تک واجب ہے اور بیٹیوں کا نفقہ تب تک واجب ہے جب تک وہ نکاح نہ کرلیں، یا ان کے پاس مال نہ آجائے۔جہاں تک معتدہ کے نان و نفقہ کا حکم ہے تو جب تک مطلقہ عورت کی عدت نہ گزری ہو تب تک اس کا نان نفقہ شوہر پر لازم ہے، تاہم عدت گزرنے کے بعد شوہر کے ذمےمطلقہ بیوی کا نفقہ واجب نہیں ۔

          صورتِ مسئولہ میں بیٹیوں کا نفقہ والد کے ذمے واجب ہے، جب تک کہ وہ نکاح نہ کرلیں یا ان کے پاس مال نہ آجائےوالدہ دوسری جگہ شادی کرلے تب بھی نفقہ والد ہی کے ذمے لازم ہے، جبکہ بیوی کا نفقہ اس کے سابقہ شوہر کے ذمے واجب نہیں، اس لیے کہ عدت گزرنے کے بعد شوہر پر بیوی کا نفقہ واجب نہیں رہتا۔

 

المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن۔(الفتاوى الهندية ، كتاب الطلاق ، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الثالث في نفقة المعتدة ، ج: 1 ص: 557)

نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد۔۔۔ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال۔۔۔ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز۔(الفتاوى الهندية ، كتاب الطلاق ، الباب السابع عشر في النفقات ،ج: 560)


فتویٰ نمبر : 6287/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں