بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مناسخہ کی ایک صورت
سوال
ایک شخص(عجب خان ولد جمعہ خان) فوت ہوا جس کے ورثا میں ایک بیوہ(سائرہ بی بی)، دو بیٹے(خوشحال خان اور عظیم خان) اور دو بیٹیاں(جہان آراء اور حسن آراء) زندہ تھیں۔
اس کے بعد خوشحال خان فوت ہوا جس کے ورثا میں ماں(سائرہ بی بی)، ایک بیوہ(شرافت بی بی)، ایک بیٹا(احمد علی جان) اور تین بیٹیاں(نزاکت بیگم، سعیدہ بیگم اور سعادت بیگم) زندہ تھیں۔
اس کے بعد"سائرہ بی بی" فوت ہوئی جس کے ورثا میں ایک بیٹا(عظیم خان) اور دو بیٹیاں (جہان آراء اور حسن آراء) زندہ تھیں۔
اس کے بعد "سعادت بیگم" کا انتقال ہوا جس کے ورثا میں ماں(شرافت بی بی)، ایک بھائی(احمد علی جان) اور دو بہنیں(نزاکت بیگم اور سعیدہ بیگم) زندہ تھیں۔
اس کے بعد "عظیم خان" کا انتقال ہوا جس کے ورثا میں ایک بھتیجا(احمد علی جان) اور دو بہنیں(جہان آراء اور حسن آراء) زندہ تھیں۔
اس کے بعد "شرافت بی بی" فوت ہوئی جس کے ورثا میں ایک بیٹا(احمد علی جان) اور دو بیٹیاں(نزاکت بیگم اور سعیدہ بیگم) زندہ تھیں۔
اس کے بعد "نزاکت بیگم" فوت ہوئی جس کے ورثا میں چار بیٹے(شکیل احمد خان، اختر علی خان، شبیر احمد خان اور عمران احمد خان) اور پانچ بیٹیاں(خالدہ، فوزیہ، یاسمین،شہنیلہ اور نبیلہ) زندہ تھیں۔
اس کے بعد "سعیدہ بیگم" کا انتقال ہوا جس کے ورثا میں چار بیٹے(طارق جان، لائق جان، فاروق جان اور شفیق جان) اور چھ بیٹیاں(نیلوفر، نگینہ، گلناز، شہناز، مہناز اور تبسم ناز ) زندہ تھیں۔ اب مرحوم(عجب خان ولد جمعہ خان) کا ترکہ مذکورہ ورثا میں کس طرح تقسیم ہوگا؟
جواب
میــ(عجب خان ولد جمعہ خان)ـ(898560)ــــــــــــــــــــــــــت
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
سائرہ بی بی خوشحال خان عظیم خان جہان آراء حسن آراء
131040 131040
میــ(خوشحال خان)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
ماں بیوہ بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی
سائرہ بی بی شرافت بی بی احمد علی جان نزاکت بیگم سعیدہ بیگم سعادت بیگم
74256
میـــ(سائرہ بی بی)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹی بیٹی
عظیم خان جہان آراء حسن بی بی
39000 39000
میــ(سعادت بیگم)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
ماں بھائی بہن بہن
شرافت بی بی احمد علی جان نزاکت بیگم سعیدہ بیگم
15470
میـ(عظیم خان)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بھتیجا بہن بہن
احمد علی جان جہان آراء حسن آراء
113360 113360 113360
میــ(شرافت بی بی)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹی بیٹی
احمد علی جان نزاکت بیگم سعیدہ بیگم
19474
میــ(نزاکت بیگم)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
شکیل احمد اخترعلی شبیراحمد عمران احمد خالدہ فوزیہ یاسمین شہنیلہ نبیلہ
8400 8400 8400 8400 4200 4200 4200 4200 4200
میــ(سعیدہ بیگم)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
طارق جان لائق جان فاروق جان شفیق جان نیلوفر نگینہ گلناز شہناز مہناز تبسم ناز
7800 7800 7800 7800 3900 3900 3900 3900 3900 3900
الأحیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ(898560)ـــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔
جہان آراء حسن آراء احمد علی جان شکیل احمد اختر احمد شبیراحمد عمران احمد
283400 283400 222560 8400 8400 8400 8400
۔۔۔ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔
خالدہ فوزیہ یاسمین شہنیلہ نبیلہ طارق جان لائق جان فاروق جان شفیق جان
4200 4200 4200 4200 4200 7800 7800 7800 7800
۔۔۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاء
نیلوفر نگینہ گلناز شہناز مہناز تبسم ناز
3900 3900 3900 3900 3900 3900
بشرطِ صدق وثبوت اگر مرحوم(عجب خان ولد جمعہ خان) کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو اور اموات بھی مذکورہ ترتیب سے ہوئی ہوں تو بعد ادائے حقوقِ متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ آٹھ لاکھ اٹھانوے ہزار پانچ سو ساٹھ(898560)حصوں میں تقسیم کر کے"جہان آراءاور حسن آراء "میں سے ہر ایک کو283400/898560 حصے ،"احمد علی جان"کو222560/898560 حصے، " شکیل احمد خان، اختر علی خان، شبیر احمد خان اور عمران احمد خان " میں سے ہر ایک کو8400/898560 حصے، " خالدہ، فوزیہ، یاسمین،شہنیلہ اور نبیلہ " میں سے ہر ایک کو4200/898560 حصے،" طارق جان، لائق جان، فاروق جان اور شفیق جان" میں سے ہر ایک کو7800/898560 حصے، " نیلوفر، نگینہ، گلناز، شہناز، مہناز اور تبسم ناز " میں سے ہر ایک کو3900/898560 حصےملیں گے۔
قال الله تعالى:﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ﴾(النساء:11)
فالعصبة نوعان نسبية وسببية فالنسبية ثلاثة أنواع عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا ثم الأخ لأب وأم ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم۔(الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، الباب الثالث في العصبات، ج:6، ص:443)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں