بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

عورت کا محرم کے بغیر تعلیم کے لیے اقامت اختیار کرنا


سوال

 کیا عورت اپنے گھر سے باہر دینی یا دنیاوی تعلیم کے لیے بغیر محرم کے تین دن یا تین دن سے زیادہ گزار سکتی ہے؟

جواب

          واضح رہے کہ کسی عورت کے لیے محرم کے بغیر مسافت شرعی کی مقدار میں سفر کرنا ناجائز ہے، کیونکہ حضورﷺ نے فرمایا ہے  کہ "کوئی عورت تین دن کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے" البتہ اگر کوئی عورت  مقدار سفر محرم کے ساتھ طے کرکے کم از کم ایک مرتبہ  پندرہ  دن  اقامت کی نیت سے کسی ایسی جگہ میں ٹھہرے جہاں اس کی عزت وآبرو پوری طرح محفوظ ہو تو وہاں پر اقامت کی صورت میں اس کے ساتھ محرم کا ہونا ضروری نہیں ۔

صورت مسٔولہ میں اگر کوئی عورت گھر سے محرم کے ساتھ نکل کر شرعی مسافت طے کر کےکسی ایسے ہاسٹل یا مدرسہ میں اقامت اختیار کرے ، جہاں شرعی اصولوں کی مکمل رعایت موجود ہو۔ بے حیائی ، بےپردگی اور غیر اخلاقی ماحول کا خدشہ نہ ہو ، اور عورت کی عفت  وعصمت اور پاکدامنی کا لحاظ پوری طرح ممکن ہو تو ایسے ہاسٹل یا مدرسہ میں عورت کے لیے اقامت اختیار کرنے کی گنجائش ہے، کیونکہ حدیث کی رو سے محرم کا سفر میں ہونا شرط ہے ،اقامت میں نہیں۔

" عن ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:لا تسافر المرأة ثلاثة أيام إلا مع ذي محرم"(صحيح البخاري، باب: في كم يقصر الصلاة، حديث:1086)

" ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية"( الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الباب الخامس العشر في صلاة المسافر،ج:1،ص:199)


فتویٰ نمبر : 4731/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں