بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
جانوروں کے گلے میں گھنٹی لٹکانا
سوال
جانوروں کے گلے میں گھنٹی لٹکانے کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ احادیث مبارکہ میں گھنٹی کو شیطان کی بانسری قرار دیا ہے۔آپ ﷺکا ارشادہے کہ :"الجرس مزمارالشيطان" کہ گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔ فقہاےکرا م کی تصریحات کے مطابق اس کی ممانعت مطلق نہیں بلکہ یہ تب ہے کہ جب اس کا استعمال بغیر مقصد کے ہو یعنی لذت و سرورکے لیے ہو،یا اس کے استعمال سے کسی کو تکلیف ہو،تاہم اگر اس کا استعمال کسی جائزمقصد کے لیے ہوتو پھر اس کی گنجائش ہے۔
چنانچہ جانوروں کے گلے میں گھنٹی لٹکانے سے مقصوداگر جانوروں میں نشاط،چستی پیدا کرنا،اس کی جگہ معلوم کرنا،یا اس کی وجہ سےبعض موذی حشرات کا بھگانا ہوتو ان فوائدکے پیش نظر شرعا اس کی گنجائش ہوگی۔
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فِى الْجَرَسِ « مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ ».(سنن أبي داؤد،كتاب الجهاد،باب في تعليق الأجراس،رقم:2556،ج:1،ص:369)
عن أم حبيبة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تصحب الملائكة رفقة فيها جرس»۔(سنن أبي داؤد،كتاب الجهاد،باب في تعليق الأجراس،رقم:2554،ج:1،ص:369)
لا بأس بتعليق الأجراس على عنق الفرس والثور۔۔۔۔۔قال محمد رحمه الله تعالى في السير الكبير إنما يكره اتخاذ الجرس للغزاة في دار الحرب وهو المذهب عند علمائنا رحمهم الله تعالى لأن تعليق الجرس على الدواب إنما يكره في دار الحرب لأن العدو يشعر بمكان المسلمين ۔۔۔۔۔ فأما ما كان في دار الإسلام فيه منفعة لصاحب الراحلة فلا بأس به قال وفي الجرس منفعة جمة منها إذا ضل واحد من القافلة يلحق بها بصوت الجرس ومنها أن صوت الجرس يبعد هوام الليل عن القافلة كالذئب وغيره ومنها أن صوت الجرس يزيد في نشاط الدواب فهو نظير الحداء كذا في المحيط (الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب السابع عشر في الغناءواللهو،ج:5،ص:408۔409)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں