بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

متعین لوگوں کے لیے مانی ہوئی نذر دوسری جگہ خرچ کرنا


سوال

زید نے نذر مانی کہ اگر میرا بیٹا پیدا ہوا تو فلاں متعین مدرسہ کےطلبا کو بکری ذبح کرکے کھلاؤں گا۔اب اس شٖخص کا بیٹا پیدا ہوا ہے،لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس نذر والی بکری کو محلہ کے غریبوں میں کچے گوشت کی صورت میں تقسیم کروں۔کیا یہ بکری اسی مدرسہ کو دینا ضروری ہے یا غریبوں میں بھی تقسیم کرسکتا ہے؟

جواب

            شریعت مطہرہ کی روشنی میں اگر منذورچیز کسی معین جگہ کے لوگوں کے ساتھ خاص کی جائے تو یہ تخصیص لازم نہیں ہوتی، بلکہ اس معین جگہ کے علاوہ دوسری جگہ کے لوگوں کو بھی وہ منذور چیز کھلانا درست ہے۔

           صورت مسئولہ میں اگر سائل نے بیٹے کی پیدائش پر معین مدرسہ کے طلبہ کو بکری ذبح کرکے کھلانے کی منت مانی تھی تو خواہ ان کو کھلائے یا دیگر فقراء و مساکین کو، دونوں صورتیں جائز ہیں۔لہذا محلہ کے غریب لوگوں میں تقسیم کرنا بھی جائز ہے۔

 

رجل قال: مالي صدقة على فقراء مكة إن فعلت كذا فحنث وتصدق على فقراء بلخ أو بلدة أخرى جاز ويخرج عن النذر.(الفتاوی الھندیة،کتاب الأیمان، ج:2، ص:72، دارالفکر)


فتویٰ نمبر : 8878/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں