بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کا حکم


سوال

 خلع کے حوالے سے پوچھنا چاہ رہا ہوں اگر بیوی خلع لینا چاہے اور مرد اس پر راضی نہ ہو تو اس کے لیے کون سی صورت اختیار کی جا سکتی ہے؟

جواب

         شریعت مطہرہ نے حتی الوسع میاں بیوی کو رشتہ نبھانے کی تاکید ہے، تاہم اگر دونوں کے درمیان ناچاقی پیدا ہو جائے اور ساتھ رہنا دشوار ہو تو شریعت نے شوہر کو طلاق دینے اور بیوی کو خلع کے مطالبہ کا اختیار دیا ہے، لیکن خلع کے لیے دونوں کی رضامندی کو شرط قرار دیا گیا ہے، اگر مرد راضی نہ ہو تو عورت خلع حاصل نہیں کر سکتی۔

          صورت مسٔولہ کے مطابق اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے  خلع لینا چاہے اور شوہر اس پر راضی نہ تو یہ خلع واقع نہیں ہو سکتا۔ 

 

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول" (بدائع الصنائع، كتاب الطلاق، ج:4، ص:315)


فتویٰ نمبر : 6285/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں