بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

جنازہ کے لیے اعلان اور دیگر لوگوں کا انتظار


سوال

 دو  تین مہینے ہوئے کہ ہم  ایک نئی جگہ  شفٹ ہوگئے ہیں اور یہاں پر کچھ علیحدہ قسم  کی ترتیب ہےجب کوئی فوت ہوجاتا ہے تو  سارے محلوں میں باری باری اعلان  کیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہاں کا جو امام ہے وہ جنا زہ میں لوگوں کے آنے کا انتظارکرتا ہے اور یہ اس نے کئی بار کیا ہے شریعت کے رو سے راہنمائی فرمائیں؟

جواب

         واضح رہے کہ نماز جنازہ کے لئے اطلاع کی غرض سے اعلان کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں پھر جس جس کو موقع ہو آکر شریک ہوجائےلیکن لوگوں کے انتظار میں مقررہ وقت سے مؤخر کرنا کہ جب تک سب لو گ نہ آجائیں نماز نہ پڑھی جائے،خواہ کتنی ہی دیر ہو جائے یہ مناسب نہیں  ۔

            لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جنازہ کا اعلان کرنے میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں البتہ بغیر ضرورت کے لوگوں کے  انتظار میں جنازے کو وقت مقررہ سے مؤخر کرنے میں چونکہ حاضرین کی دل آزاری اور ان کا وقت ضائع ہونے کا اندیشہ ہے اس لئے اس سے احترازکرنا چاہیے ۔

 

 عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نعى النجاشي في اليوم الذي مات فيه وخرج بهم إلى المصلى فصف بهم وكبر عليه أربع تكبيرات۔(صحيح البخاري،كتاب الجنائز،باب الرجل ينعي الي الميت بنفسه۔ج:1/ص:167)

(قوله وبالإعلام بموته) أي إعلام بعضهم بعضا ليقضوا حقه(ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الصلوٰۃ، باب الجنائز، ج:2/ص:239)

عن أبي هريرة رضي الله عنه  يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم قال أسرعوا بالجنازة فإن يكن خيرا تقدموها إليه وإن يكن شرا تضعوه عن رقابكم(جامع الترمذي،باب الجنائز،باب ما جاءفي الا سراع بالجنازه ج:1 ص:196)


فتویٰ نمبر : 4730/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں